واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو سختی سے خبردار کیا ہے کہ وہ ایران پر کسی ممکنہ حملے سے باز رہیں، کیونکہ ایسا کوئی بھی اقدام امریکا اور ایران کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا، "ہماری ایران کے ساتھ کافی اچھی بات چیت جاری ہے، اور ایسے موقع پر اسرائیل کی جانب سے کوئی حملہ ناقابل قبول ہوگا۔"ٹرمپ نے مزید بتایا کہ ان کی انتظامیہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ ان کا کہنا تھا، "ہم غزہ میں غذائی امداد بھیج رہے ہیں، یہ ایک نہایت ناگوار صورتحال ہے۔"
دوسری جانب، غیر ملکی خبررساں اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکا کی جانب سے منجمد فنڈز کی بحالی کے بدلے یورینیئم کی افزودگی عارضی طور پر روکنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے پانچویں دور کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں عمان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کئی برس سے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے مذاکرات جاری ہیں، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اسرائیلی بیانات ان کوششوں کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔