وفاقی آئینی عدالت کے رولز جاری، اہم قانونی امور کی تفصیلات سامنے آگئیں

وفاقی آئینی عدالت کے رولز جاری، اہم قانونی امور کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت کے 126 صفحات پر مشتمل رولز جاری کردیے گئے، جن میں توہین عدالت، نظرثانی درخواستوں، سزائے موت، التوا، آرٹیکل 63A کے تحت اپیلوں، زبانی دلائل، بینچوں کی تشکیل اور وکلا سے متعلق تفصیلی قواعد وضع کیے گئے ہیں۔

رولز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت توہین عدالت کا ازخود نوٹس لے سکے گی، جبکہ کسی بھی شخص کی درخواست پر بھی توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جاسکے گی۔بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواست دائر کرنے پر وکیل کے خلاف تادیبی کارروائی کے علاوہ کم از کم 25 ہزار روپے اخراجات عائد کیے جاسکیں گے۔ ایسی درخواست دائر کرنے والے فریق پر بھی کم از کم 25 ہزار روپے اخراجات عائد ہوسکیں گے۔نظرثانی درخواست کی سماعت سے قبل درخواست گزار کو 50 ہزار روپے زرِ ضمانت جمع کرانا ہوگا، جبکہ درخواست خارج یا بے بنیاد قرار پانے کی صورت میں یہ رقم ضبط کی جاسکے گی۔رولز کے مطابق نظرثانی درخواست حتی الامکان اسی بینچ کے سامنے مقرر ہوگی جس نے اصل فیصلہ یا حکم جاری کیا تھا۔ اصل بینچ کا کوئی جج دستیاب نہ ہو تو جہاں ممکن ہو، اسی بینچ کے ایک یا زائد ججز پر مشتمل بینچ نظرثانی درخواست سنے گا۔ نظرثانی کے حکم کے خلاف مزید نظرثانی درخواست دائر نہیں کی جاسکے گی۔

سزائے موت سے متعلق اہم قواعد
سزائے موت کے خلاف نظرثانی درخواست دائر ہونے پر رجسٹرار متعلقہ حکومت کو فوری آگاہ کرے گا اور درخواست کے فیصلے تک سزائے موت پر عملدرآمد خودکار طور پر معطل رہے گا، جس کے لیے عدالت کے الگ حکم کی ضرورت نہیں ہوگی۔تاہم اپیل، نظرثانی اور رحم کی درخواست سمیت تمام قانونی چارہ جوئی مکمل ہونے کی صورت میں سزائے موت کی خودکار معطلی کا اصول لاگو نہیں ہوگا۔

ہیبیس کارپس درخواستیں
رولز کے مطابق رِٹ آف ہیبیس کارپس کی درخواست رجسٹری یا برانچ رجسٹری میں دائر کی جاسکے گی، جبکہ حراست میں لیے گئے شخص کا حلف نامہ درخواست کے ساتھ منسلک کرنا ہوگا۔درخواست میں یہ بھی بتانا ہوگا کہ اسی ریلیف کے لیے متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے یا نہیں۔ اگر حراست کے باعث زیرِ حراست شخص حلف نامہ دینے سے قاصر ہو تو حقائق سے واقف کسی دوسرے شخص کا حلف نامہ جمع کرایا جاسکے گا، جس میں حلف نامہ نہ دینے کی وجوہات بھی بیان کرنا ہوں گی۔آرٹیکل 175E کی شق 3 کے تحت ہیبیس کارپس کی درخواست 7 دن کے اندر سماعت کے لیے مقرر کی جائے گی اور ایسی درخواست یا متعلقہ فوجداری کارروائی پر کوئی عدالتی فیس عائد نہیں ہوگی۔اگر بادی النظر میں ریلیف کا مقدمہ بنتا ہو تو عدالت ابتدائی حکم جاری کرسکے گی۔ عدالت متعلقہ شخص کو طلب کرکے حراست کی وجوہات بتانے اور غیر قانونی یا نامناسب حراست میں موجود شخص کو اپنے سامنے پیش کرنے کی ہدایت بھی کرسکے گی۔

التوا سے متعلق قواعد
فوجداری مقدمے میں اپیل کی اجازت کی درخواست فیصلے یا حتمی حکم کی تاریخ سے 60 دن کے اندر دائر کرنا ہوگی۔رولز کے مطابق التوا ایک استثنائی معاملہ ہوگا اور کسی فریق کا حق نہیں ہوگا۔ مبہم، رسمی، غیر ضروری یا کارروائی میں تاخیر کی غرض سے دائر کی گئی درخواست مسترد کی جاسکے گی۔بغیر مناسب وجہ، محض سہولت یا تاخیر کے لیے التوا طلب کرنے کی صورت میں عدالت کارروائی جاری رکھ سکے گی۔ حقیقی ہنگامی یا ناقابلِ اجتناب حالات میں عدالت التوا منظور کرسکے گی۔بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی درخواست پر کم از کم 25 ہزار روپے عدالتی اخراجات عائد کیے جاسکیں گے۔ یہ رقم ضبط کرکے مخالف فریق کو ادا کی جاسکے گی۔رجسٹرار قواعد کے خلاف یا توہین آمیز الفاظ پر مشتمل درخواست وصول کرنے سے انکار کرسکے گا، جس کے خلاف 14 دن کے اندر جج ان چیمبرز کے سامنے اپیل دائر کی جاسکے گی۔

آرٹیکل 63A کے تحت اپیلیں
آرٹیکل 63A کے تحت الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں 30 دن کے اندر اپیل دائر کی جاسکے گی، جبکہ ہر اپیل کا فیصلہ دائر ہونے کے 90 دن کے اندر کیا جائے گا۔رولز کے مطابق یہ حکم متعلقہ آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد کیے گئے فیصلوں پر لاگو ہوگا، جبکہ اس سے متعلق اپیلوں کا اطلاق ترمیم کے نفاذ کے بعد ہونے والے اگلے عام انتخابات سے ہوگا۔

زبانی دلائل اور تحریری دلائل
وفاقی آئینی عدالت میں ہر مقدمے، درخواست یا اپیل میں ہر فریق کو زبانی دلائل کے لیے 10 منٹ دیے جائیں گے۔ اہم قانونی سوال پر مشتمل مقدمے میں ہر فریق کو عموماً 30 منٹ تک دلائل دینے کا وقت دیا جائے گا۔عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر مقررہ وقت سے زیادہ دلائل نہیں دیے جاسکیں گے۔ مختصر تحریری دلائل سماعت سے کم از کم 2 دن پہلے سافٹ یا اسکین شدہ کاپی کے ساتھ جمع کرانا ہوں گے۔

بینچوں کی تشکیل
رولز کے مطابق ہر مقدمہ، معاملہ یا اپیل کم از کم 2 ججز پر مشتمل بینچ سنے گا۔ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کے فیصلے سے پیدا ہونے والی اپیل بھی کم از کم 2 ججز کے بینچ کے سامنے مقرر ہوگی۔بینچ میں ججز کی رائے برابر تقسیم ہونے کی صورت میں معاملہ کسی دوسرے جج یا چیف جسٹس کی جانب سے نامزد بڑے بینچ کو بھیجا جاسکے گا۔چیف جسٹس مقدمے کی اہمیت، پیچیدگی یا عوامی اہمیت کے پیش نظر کسی بھی مرحلے پر بڑا بینچ تشکیل دے سکیں گے، جبکہ بڑے بینچ میں ججز کی تعداد چیف جسٹس کے حکم سے مقرر ہوگی۔

وکلا سے متعلق قواعد
وفاقی آئینی عدالت میں سینئر ایڈووکیٹس، ایڈووکیٹس اور ایڈووکیٹس آن ریکارڈ کے الگ الگ رول برقرار رکھے جائیں گے۔ پاکستان بار کونسل کا انرولمنٹ سرٹیفکیٹ پیش کیے بغیر کسی وکیل کو رول پر دستخط کی اجازت نہیں ہوگی۔پیشہ ورانہ بدعنوانی یا بدسلوکی کی صورت میں چیف جسٹس اور ججز وکیل کا نام رول سے خارج کرسکیں گے۔ایڈووکیٹ کے طور پر انرولمنٹ کے لیے کم از کم 7 سال ہائی کورٹ کا ایڈووکیٹ رہنا لازم ہوگا۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ججز کو وکیل کی عدالت میں پیش ہونے اور دلائل دینے کی موزونیت کی تصدیق کرنا ہوگی۔چیف جسٹس اور ججز علم، قابلیت اور تجربے کی بنیاد پر وکلا کو سینئر ایڈووکیٹ نامزد کرسکیں گے۔ سینئر ایڈووکیٹ کو دیگر وکلا پر ترجیح حاصل ہوگی، جبکہ سینئر ایڈووکیٹ کے لیے انرولمنٹ فیس ایک لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔وفاقی آئینی عدالت میں تمام مقدمات، درخواستیں، اپیلیں اور نظرثانی درخواستیں مختلف زمروں اور ذیلی زمروں میں تقسیم ہوں گی۔ رجسٹرار چیف جسٹس کی منظوری سے مقدمات کی فائلنگ، جانچ، رجسٹریشن، فہرست سازی، تقسیم اور شماریاتی انتظام کا جامع شیڈول مرتب کرکے شائع کرے گا۔