راولپنڈی: حنا جاوید قتل کیس میں مزید اہم اور تشویش ناک تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔
مقتولہ کی لاش اور جسم پر موجود زخموں سے متعلق مزید تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد واقعے کی تحقیقات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پولیس ان تصاویر کو پہلے ہی تحویل میں لے کر مقدمے کے ریکارڈ کا حصہ بنا چکی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سامنے آنے والی ایک تصویر میں حنا جاوید کی لاش واش روم میں شاور کے ساتھ لٹکی ہوئی دکھائی گئی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مقتولہ کا منہ ڈھانپا گیا تھا، جبکہ ان کے ہاتھ دوپٹے کے ذریعے پیچھے کی جانب بندھے ہوئے تھے۔ ان کی گردن کے گرد سفید تار موجود تھی، جسے واش روم میں نصب شاور کے ساتھ باندھا گیا تھا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مقتولہ کے بائیں گھٹنے کے نیچے فرش پر خون کے نشانات بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے زخمی چہرے اور دائیں کہنی کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں، جن میں جسم پر زخموں کے نشانات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
چہرے اور گردن پر زخموں کے نشانات
سامنے آنے والی تصاویر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حنا جاوید کے ہونٹ زخمی تھے۔ رپورٹ میں چہرے اور گردن پر موجود نشانات کو ممکنہ تشدد سے جوڑا گیا ہے، تاہم ان زخموں کی اصل نوعیت اور ان کے پیچھے موجود حالات کا تعین تفتیش اور فرانزک شواہد کی روشنی میں کیا جانا ضروری ہے۔
دائیں کہنی پر پانچ مقامات پر زخم
رپورٹ کے مطابق حنا جاوید کی دائیں کہنی پر پانچ مختلف مقامات پر سوراخ نما نشانات بھی دکھائی دیتے ہیں۔ لواحقین نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ زخم مبینہ طور پر اسکریو ڈرائیور جیسی کسی نوکیلی چیز سے لگائے گئے ہوں گے۔ تاہم اس حوالے سے کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے فرانزک رپورٹ اور تفتیشی شواہد اہم ہوں گے۔
مبینہ خودکشی کا تاثر دینے کا شبہ
کیس سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ملزمان نے مبینہ طور پر قتل کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ تاہم اس دعوے اور واقعے کے اصل محرکات کی تصدیق متعلقہ تفتیشی اداروں کے شواہد اور عدالتی کارروائی سے ہی ہو سکے گی۔ذرائع کے مطابق راولپنڈی پولیس مذکورہ تصاویر کو پہلے ہی قبضے میں لے کر مقدمے کے ریکارڈ میں شامل کر چکی ہے۔ اب ان تصاویر، جسم پر موجود زخموں، جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد اور دیگر متعلقہ مواد کی بنیاد پر واقعے کی حقیقت جاننے میں تفتیشی عمل اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔