میاں شہزاد طفیل
خطے کی سیاسی اور عسکری صورتحال اکثر غیر مستحکم رہتی ہے، اور ایران-امریکہ کے درمیان ممکنہ تصادم جیسے بحران عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنتے ہیں۔ ایسے حالات میں مضبوط قیادت، بصیرت اور پیشہ ورانہ حکمت عملی کی ضرورت سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ سید عاصم منیر کی قیادت نے نہ صرف پاکستان کی دفاعی تیاری کو مضبوط بنایا بلکہ خطے میں ثالثی کے کردار کو بھی بڑھاوا دیا، جس کا حالیہ ایران-امریکہ جنگ بندی پر واضح اثر پڑا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے عسکری اور سفارتی دونوں محاذوں پر فعال کردار ادا کیا۔ ان کے تجربے کی بنیاد پر داخلی و خارجی خطرات کی بروقت نشاندہی اور مؤثر حکمت عملی اپنانے کی صلاحیت نے پاکستان کو ایک ذمہ دار خطی طاقت کے طور پر پیش کیا۔ ان کی رہنمائی میں پاک فوج نے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کیا بلکہ علاقائی سیکیورٹی کے لیے بھی مثبت اقدامات کیے، جن میں مشترکہ فوجی مشقیں، دفاعی تعاون، اور عسکری چینلز کے ذریعے ثالثی کی پیشکش شامل تھی۔یہ بات خاص طور پر قابلِ تعریف ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہ صرف روایتی فوجی تدابیر پر توجہ دی بلکہ جدید خطرات جیسے ہائبرڈ وارفیئر، دہشت گردی، اور سرحدی کشیدگی کے لیے بھی مؤثر حکمت عملی تیار کی۔ ان کی بصیرت نے پاکستان کو خطے میں ایک مستحکم اور ذمہ دار طاقت کے طور پر عالمی سطح پر پیش کیا۔ اس کی واضح مثال ایران اور امریکہ کے درمیان 14 دن کی جنگ بندی ہے، جہاں پاکستان نے ثالثی اور مذاکراتی راستوں کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔اسی دوران، میاں شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے سیاسی اور سفارتی محاذ پر فعال کردار ادا کیا، جس نے پاک فوج کی عسکری کوششوں کو مزید مؤثر بنایا۔ وزیرِاعظم اور فوجی قیادت کے درمیان ہم آہنگی نے پاکستان کے موقف کو مضبوط کیا اور عالمی سطح پر اس بات کا ثبوت دیا کہ پاکستان نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے بھی ذمہ دار اقدامات کرتا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے نہ صرف اپنے دفاع کو مستحکم کیا بلکہ خطے میں ثالثی اور امن قائم رکھنے کی صلاحیت بھی دکھائی۔ ان کی بصیرت، پیشہ ورانہ مہارت اور فیصلہ سازی کے عمل نے ایران-امریکہ جنگ بندی میں مثبت کردار ادا کیا، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عسکری قیادت صرف فوجی کارروائیوں کے لیے نہیں بلکہ خطے میں استحکام اور امن قائم رکھنے کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔یہ کہنا درست ہوگا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور وزیراعظم میاں شہباز شریف کی سیاسی بصیرت نے نہ صرف پاکستان کی ساکھ کو بڑھایا بلکہ خطے میں امن کے فروغ میں ایک مضبوط مثال قائم کی۔ یہ وہ مشترکہ کوششیں ہیں جو خطے میں کشیدگی کو کم کرنے، عالمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور پاکستان کو ایک ذمہ دار خطی اور عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔