’وینزویلا پر حملوں کا منصوبہ نہیں‘، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا متضاد بیان

’وینزویلا پر حملوں کا منصوبہ نہیں‘، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا متضاد بیان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں اپنے بیانات اور خطے میں امریکی فوجی نقل و حرکت کے برعکس ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ وینزویلا پر کسی بھی عسکری حملے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

 اس بیان کا پس منظر اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے کیریبین خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتیاں کی ہیں۔ ان کارروائیوں میں جدید جنگی جہاز، طیارہ بردار بحری بیڑا ’یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ‘، اور ہزاروں امریکی فوجی شامل ہیں۔یہ فوجی تعیناتیاں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے سیاسی بحران کے تناظر میں کی گئی ہیں، جہاں امریکہ حکومت کی تبدیلی کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے۔ تاہم، صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ وہ وینزویلا پر حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتے۔ انہوں نے مختصر الفاظ میں جواب دیا، ’نہیں‘، جس سے ان کے اس مؤقف کی تصدیق ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس معاملے میں اپنے مؤقف کا اعادہ کیا ہے، اور ایک مقامی میڈیا رپورٹ کو ’جعلی خبر‘ قرار دیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکہ وینزویلا کے خلاف حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ روبیو کا کہنا تھا کہ امریکہ وینزویلا کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی میں نہیں ہے اور یہ رپورٹس غلط اور بے بنیاد ہیں۔مجموعی طور پر، اس صورتحال میں امریکہ کی جانب سے عسکری سرگرمیوں کے باوجود، قیادت کی جانب سے واضح کیا جا رہا ہے کہ وہ کوئی فوجی حملہ نہیں کرنا چاہتا، مگر خطے میں فوجی موجودگی اور سرگرمیاں جاری رہتی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی اور تذبذب میں اضافہ ہوتا ہے۔