امریکی صدر کے ایرانی تیل پر کنٹرول کے ساتھ ڈیل کے متضاد بیانات، جنگ نے خطرناک رخ اختیار کر لیا

امریکی صدر کے ایرانی تیل پر کنٹرول کے ساتھ ڈیل کے متضاد بیانات، جنگ نے خطرناک رخ اختیار کر لیا

مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں حالیہ دنوں میں شدت آ گئی ہے اور خطے کے مختلف ممالک میں متعدد ہلاکتیں اور جانی و مالی نقصان سامنے آیا ہے۔

امریکا اور ایران کے بیچ بڑھتی کشیدگی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ایران کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ایران نے امریکا پر الزام لگایا کہ وہ خطے میں زمینی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جبکہ واشنگٹن نے مذاکرات کی بظاہر بات بھی کی ہے، جس سے خطے میں بے یقینی بڑھ گئی۔
حملوں اور ہلاکتیں
کویت میں ایران کے حملے سے ایک پاور اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی کارکن ہلاک ہو گیا۔امریکا اور اسرائیل نے ایران کے شہر تبریز میں پیٹروکیمیکل پلانٹ پر حملے کیے، جس کے بعد بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ایران نے جواباً جنوبی اسرائیل کے صنعتی علاقے کو نشانہ بنایا، جہاں آگ لگنے اور کیمیائی مواد کے اخراج کا خطرہ پیدا ہوا۔یمن سے اسرائیل پر داغے گئے دو ڈرونز کو اسرائیل نے فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔اقوام متحدہ نے جنوبی لبنان میں ایک امن اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کی۔
سفارتی اقدامات
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا، جس میں تمام ممالک نے جنگ میں کمی لانے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
عالمی اثرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری یہ کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور عالمی امن و استحکام کے لیے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہے۔توانائی کی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث تیل اور گیس کی قیمتیں بلند ہو رہی ہیں، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔