ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفرازسمیت 6 افسر وں کا مزید 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، ڈکی بھائی کا رہائی کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع
لاہور(کرائم رپورٹر)نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی(این سی سی آئی اے )کے گرفتار 6افسروں سے سوا 4 کروڑ کی رقم برآمد ہونے کی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی گئی، جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ ملزموں کو تین نومبر کو دوبارہ پیش کیا جائے، گزشتہ روز رشوت کے الزام میں گرفتار این سی سی آئی اے کے چھ افسروں کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر ہتھکڑیاں لگا کر ضلع کچہری میں پیش کیاگیا، ملزمان میں ایڈیشنل ڈائریکٹر چودھری سرفراز، اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض، علی رضا، زوار، یاسر گجر و دیگر شامل ہیں، ایف آئی اے نے عدالت میں تفتیشی رپورٹ جمع کراتے ہوئے بتایا کہ ملزموں سے مجموعی طور پر 4 کروڑ 25 لاکھ 48 ہزار روپے کی رقم ریکور کی گئی ہے،رپورٹ کے مطابق ملزم علی رضا سے 70 لاکھ روپے، ملزم زوار سے 9 لاکھ روپے، ملزم یاسر گجر سے 19 لاکھ روپے، اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض سے 36 لاکھ 48 ہزار روپے اور ایڈیشنل ڈائریکٹر چودھری سرفراز سے 1 کروڑ 25 لاکھ 48 ہزار روپے برآمد کیے گئے۔ایڈووکیٹ منیر بھٹی نے دلائل دیتے ہوئے مئوقف اپنایا کہ ایک بھی ٹرانزیکشن کا ثبوت ایف آئی اے کے پاس موجود نہیں، کیس کو سوشل میڈیا پر غیر ضروری طور پر ہایپ دیا گیا ہے، اور جس کیس کی ہایپ بنائی جاتی ہے، اس کا فیئر ٹرائل ممکن نہیں رہتا ، جس کیس میں وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، چیف جسٹس اور آئی جی پنجاب نوٹس لیتے ہیں، اْس کیس کا غیر جانبدارانہ ٹرائل نہیں ہو سکتا۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزموں کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام لوگ ٹرینڈ افسران ہیں، اس لیے ان سے تفتیش کرنا قدرے مشکل ہے تاہم ہم ان کے زیرِ تفتیش کیسز اور اثاثوں کی تفصیلات اکٹھی کر رہے ہیں۔دریں اثنا یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی نے رہائی کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا،درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ایف آئی آر میں کوئی الزام درخواست گزار پر لاگو نہیں ہوتا، ڈکی بھائی کی اہلیہ نے این سی سی آئی اے کے اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرایا، مقدمے کی تفتیش کرنے والے تمام افسر گرفتار اور جسمانی ریمانڈ پر ہیں، شریک ملزموں کی ضمانتیں پہلے ہی منظور ہو چکی ہیں،مقدمے کی ایف آئی آر 2018 میں درج ہوئی، مقدمے کی دفعات کی زیادہ سے زیادہ سزا تین سال، ممنوعہ کلاس میں شامل نہیں ، استدعا ہے کہ درخواست گزار کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔