آزادکشمیر میں عدم اعتماد :پیپلز پارٹی کا پارلیمانی اجلاس بے نتیجہ

قائد ایوان کا نام فائنل ہوا نہ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا فیصلہ ہوا
 حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ چکے، یہ وقت سیاسی امتحان ہے :بلاول 
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)پیپلز پارٹی وزیراعظم آزادکشمیرچودھری انوارالحق کیخلاف عدم اعتماد کی صورت میں نئے قائد ایوان بارے تاحال تذبذب کا شکار ، پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں قائد ایوان کا نام فائنل نہ ہوسکا ،آزاد کشمیر کی پارٹی قیادت زرداری ہائوس سے واپس روانہ ہوگئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کب اور کیسے پیش کی جائے گی؟ فیصلہ نہ ہوسکا، پی پی آزاد کشمیر میں وزیراعظم کے نام پر اختلافات تاحال برقرار ہیں،پی پی قیادت کی جانب سے مظفر آباد میں وزیراعظم کے نام کا اعلان متوقع ہے۔ قبل ازیں زرداری ہاؤس میں بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں فریال تالپور ، راجہ پرویز اشرف، قمر الزمان کائرہ سمیت پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چودھری یاسین،سپیکر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی سمیت پارلیمانی پارٹی کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں آزادکشمیر کا پچھلا الیکشن میں ہروایا مگر آج ہم آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آچکے ہیں ، یہ وقت انتخابات سے پہلے ایک سیاسی امتحان ہے جس میں کامیابی حاصل کریں گے،کشمیری عوام کی امنگوں پر پورا اتریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری جماعت کی بنیاد کشمیرکازکی وجہ سے رکھی گئی تھی ، ہماری جماعت نے ہمیشہ کشمیر کاز کا مقدمہ لڑا ، تین نسلوں سے کشمیریوں کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، غیر سیاسی سوچ اور سازش کی وجہ سے کشمیر میں سیاسی ویکیوم پیدا کیا گیا، پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو کشمیر کی صحیح معنوں میں نمائندگی کر سکتی ہے۔ پی پی چیئرمین نے کہا کہ ہماری جماعت میں شمولیت اختیار کرنے والوں کا شکرگزار ہوں، کشمیر کے عوام سے وعدہ ہے کبھی ان کو مایوس نہیں کروں گا ،الیکشن کا وقت قریب ہے، عوام کو نئے فیصلوں کی تیاری رکھنی چاہیے ، انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے گزشتہ انتخابات میں الیکشن جیتا تھا مگر ہماری کامیابی کو شکست میں بدلا گیا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی کو جان بوجھ کر پیچھے رکھا گیا، سیاسی سازشوں نے کشمیر کے اندر سیاسی خلا پیدا کیا۔ بلاول نے کہا کہ ہم نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پوری دنیا میں کشمیری عوام کی نمائندگی کریں گے، آنے والے 9 ماہ پیپلز پارٹی کیلئے ایک امتحان ہوں گے ،کشمیر کا سیاسی حل ہی ہمارا راستہ ہے اور یہی پیپلز پارٹی کی پہچان ہے، آزادجموں و کشمیر کے وزیر اعظم کا فیصلہ اسلام آباد سے نہیں، کشمیر سے ہوگا، اپیپلز پارٹی کشمیر میں عوامی حکومت قائم کرے گی۔