کاشٹ بٹ
کبھی پولیس کا نام سنتے ہی ذہن میں تحفظ، انصاف اور قانون کی حکمرانی کا تصور ابھرتا تھا۔ مگر آج حالات اتنے بگڑ چکے ہیں کہ پولیس کی وردی دیکھ کر خوف اور بیاعتمادی پیدا ہونے لگتی ہے۔ عوام سوچنے پر مجبور ہیں کہ جن کے ہاتھوں میں ہماری حفاظت کی ذمہ داری ہے، وہی ہاتھ اب جرم کی دلدل میں کیوں دھنستے جا رہے ہیں؟پہلے زمانے میں پولیس کی بدنامی صرف کرپشن تک محدود تھی — رشوت دو تو کام ہو جائے، نہ دو تو فائل غائب، ملزم بچ جائے یا بیقصور پھنس جائے۔ مگر اب کہانی اس سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔اب تو آئے روز سننے میں آتا ہے کہ فلاں اہلکار ڈکیتی میں ملوث نکلا، فلاں افسر منشیات کے دھندے میں ہاتھ ڈال چکا، یا کوئی سپاہی خود چوروں کے گروہ کی سرپرستی کر رہا ہے۔چند دن پہلے لاہور میں ہونے والا واقعہ تو جیسے پوری پولیس کی ساکھ پر مٹی ڈال گیا۔ سی سی ڈی کا انسپکٹر، جو جرائم کے خاتمے کے لیے تعینات تھا، خود اغوا برائے تاوان کے جرم میں پکڑا گیا۔اس نے نہ صرف سرکاری گاڑی اور وردی استعمال کی بلکہ نوجوان ولید کو کاہنہ سے اغوا کر کے پانچ کروڑ روپے تاوان مانگا۔رقم کم کرتے کرتے چالیس لاکھ روپے پر سودا طے پایا — اور پیسوں کے عوض نوجوان کو رہا کر دیا گیا۔یہ واقعہ ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظام کے بوسیدہ ہونے کا ثبوت ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟کیا واقعی پولیس افسران اور اہلکار ناکافی تنخواہوں کی وجہ سے جرم کی راہ اختیار کر رہے ہیں؟
اگر ایسا ہے تو پھر ہر سال اربوں روپے کے فنڈز جو پولیس کے نام پر جاری کیے جاتے ہیں، وہ کہاں غائب ہو جاتے ہیں؟کیا وہ فنڈز عوام کی حفاظت کے بجائے افسران کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں؟کیا وہ پیسہ نئی وردیاں، تربیت، جدید آلات، اور عوامی خدمت پر خرچ ہوتا ہے — یا کرپشن کے نالوں میں بہہ جاتا ہے؟یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک عام پولیس اہلکار بارہ بارہ گھنٹے ڈیوٹی کرتا ہے، خطرناک حالات میں رہتا ہے، مگر اس کی تنخواہ ایک ڈرائیور یا پرائیویٹ گارڈ سے زیادہ نہیں۔جب اوپر کے افسران کروڑوں کے بنگلوں میں بیٹھے ہوں اور نیچے والا اہلکار اپنے بچوں کی فیس کے لیے پریشان ہو، تو پھر انصاف کیسے قائم رہے گا؟ایسا نظام خود اپنے اہلکاروں کو جرم کی طرف دھکیلتا ہے۔
لیکن! کم تنخواہ جرم کا جواز نہیں بن سکتی۔یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ پولیس کے اندر ایمانداری کی بجائے مفاد پرستی کا کلچر پیدا ہو چکا ہے۔
جہاں انصاف بیچا جاتا ہے، وہاں جرم پنپتا ہے۔محکمہ پولیس میں اصلاحات، احتساب اور شفاف نظامِ فنڈز کے بغیر کسی بہتری کی امید رکھنا محض خودفریبی ہے۔آج پولیس کو سب سے زیادہ ضرورت بندوق یا گاڑی کی نہیں، بلکہ کردار کی تربیت کی ہے۔ورنہ وہ دن دور نہیں جب عوام "پولیس" کا لفظ سنتے ہی کہیں گے:محافظ نہیں، یہ تو خود خطرہ ہیں