میاں اویس علی
پاکستان اوربھارت کے درمیان نظریات اورترجیحات کا فرق نمایاں ہے، ہم ایک معبود برحق اللہ ربّ العزت کی بارگاہ میں سربسجود ہوتے ہیں جبکہ ہندوئوں کے نام نہاد گائوماتا اوربندروں سمیت ہزاروں بھگوان ہیں اورانہیں ہرمندرمیں ماتھا ٹیکنا پڑتا ہے۔ہندوزندگی کے کسی میدان اورامتحان میںہمارا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی ہمارے فطری اوربزدل دشمن نے مادروطن پاکستان کیخلاف جارحیت کی جسارت کی تو ہماری پروفیشنل اور بہادر افواج نے ہمیشہ انتہائی پیشہ ورانہ مہارت اورشجاعت کے ساتھ دشمن کے ہر وار کو ناکام بنایا۔ سچائی تو یہ ہے کہ پاک فوج ہمیشہ دشمن کے مقابل سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹ گئی،ہمارے فوجی جانبازوں نے ہرمعرکے میں وطن عزیز کی سا لمیت کاپہرہ دیتے ہوئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ 1948ء کامعرکہ ہو یا 1965ء کی جنگ یاپھر کارگل کا محاذ ہو اپنے سے سات گنا بڑی فوجی طاقت بھارت کا غرورچکناچور کردیا ۔رواں برس بھارتی جارحیت کے جواب میں 10 مئی 2025 کو ''آپریشن بنیان المرصوص'' کا آغاز کیا گیا۔ اس آپریشن کو معرکہ حق کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جہاں پاکستان نے دشمن کو واضح پیغام دیا کہ ہم اپنے مادروطن کی سا لمیت اور آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔بھارتی سندرو آپریشن کے مقابلے میں افواج پاکستان نے اپنے آپریشن کانام ''بنیان المرصوص'' کا تصور قرآنِ حکیم کی ایک آیت سے لیا تھا، جس میں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی تعریف کی گئی ہے جو اللہ ربّ العزت کے دین اسلام کی سربلندی کیلئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے رہے اور باطل کاناپاک وجود مٹا یا۔ پاک فوج نے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے جوش و جذبہ کی پیروی کرتے ہوئے دشمن کے مختلف ایئربیس اور کئی میزائل ڈپوز کو نشانہ بنا کر جواںمردی کا مظاہرہ کیا۔رافیل سمیت کئی جنگی طیارے مار گرائے۔
یہ معرکہ صرف ہتھیاروں یا ٹیکنالوجی کی جنگ نہیں تھا، بلکہ یہاں قوم کی یکجہتی، پاکستانی فوج کی پیشہ وارانہ مہارت، قربانی اور حب الوطنی کی اعلیٰ مثالیں قائم ہوئیں۔ اس عظیم کامیابی پر پوری پاکستانی قوم نے ''یوم تشکر'' منایا اور شہداء و غازیوں کو دل سے سلام پیش کیا۔آخر میں، اس معرکہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان اتحاد اور قربانی کامیابی کی اصل بنیاد ہیں۔ پوری قوم اپنی افواج اور قیادت پر فخر کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہے کہ وطن عزیز ہمیشہ سربلند اور محفوظ رہے۔پاکستانی عوام نے یکجہتی اور قربانی کا ایسا جذبہ دکھایا جس کی مثال دور جدید میں کم ہی ملتی ہے۔ ہر شہر اور گاؤں میں شہریوں نے اپنے غازیوں اور شہداء کے لیے دعائیہ تقریبات منعقد کیں، اور قومی پرچموں سے گلیاں اور عمارتیں سجا دیں۔ اس قومی اتحاد نے دشمن پر واضح کر دیا کہ پوری قوم اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
اس آپریشن کے دوران خواتین، نوجوانوں اور بزرگوں نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ وطن کے دفاع کیلئے معاشرتی سطح پر فنڈز جمع کیے گئے، متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع ہوئیں، اور میڈیا نے بھی بھرپور حب الوطنی کا مظاہرہ کیا۔ قومی یکجہتی اور اعتماد نے اس تاریخی لمحے کو مزید یادگار بنا دیا۔بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے عزم و جذبے کو سراہا گیا۔ مختلف ممالک اور عالمی تنظیموں نے خطے میں قیامِ امن کیلئے پاکستان کے اقدامات کوخوب سراہا اور زور دیا کہ مسائل کا حل مذاکرات اور انصاف پسندی میں ہے۔ اس سارے منظرنامے نے پاکستان کے اصولی موقف اور وقار کو عالمی سطح پر مضبوط کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معرکہ حق کے بعد پاکستان دنیا کے منظر نامے پر ایک باوقار قوت کے طور پر ابھراہے،پاکستان کی اس بینظیر کامیابی وکامرانی اورنیک نامی کاکریڈٹ افواج پاکستان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔