محمد راشد تبسم
قدرت الٰہی کی اس وسیع و عریض کائنات میں بے شمار مخلوقات ایسی ہیں جو بظاہر بہت چھوٹی دکھائی دیتی ہیں مگر ان کی اہمیت پوری انسانیت کے لیے غیر معمولی ہوتی ہے۔ شہد کی مکھی بھی انہی میں سے ایک ہے۔ یہ ننھی سی مخلوق نہ صرف میٹھا، لذیذ اور شفا بخش شہد تیار کرتی ہے بلکہ انسانوں کی خوراک، زراعت، ماحول اور معیشت کے تحفظ میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ آج دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات، سائنسدان اور غذائی ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ اگر شہد کی مکھیاں ختم ہو جائیں تو انسانی خوراک کا نظام شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔
اسی اہمیت کے پیش نظر ہر سال 20 مئی کو دنیا بھر میں عالمی یومِ شہد کی مکھی منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد لوگوں کو یہ شعور دینا ہے کہ شہد کی مکھیاں صرف شہد بنانے والی مخلوق نہیں بلکہ زمین پر زندگی کے تسلسل کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے مطابق دنیا کی تقریباً 75 فیصد غذائی فصلیں کسی نہ کسی حد تک ان کیڑوں پر منحصر ہیں جو پھولوں کے درمیان بار آوری کا عمل مکمل کرتے ہیں، اور ان میں شہد کی مکھی سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہماری روزمرہ خوراک کا ایک بڑا حصہ شہد کی مکھیوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔
شہد کی مکھی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قرآنِ مجید نے ایک مکمل سورت کا نام ہی ’’النحل‘‘ یعنی ’’شہد کی مکھی‘‘ رکھا۔ اللہ تعالیٰ سورۃ النحل میں ارشاد فرماتے ہیں:
اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ کچھ پہاڑوں میں سے گھر بنا اور کچھ درختوں میں سے اور کچھ اس میں سے جو لوگ چھپر بناتے ہیں۔ پھر ہر قسم کے پھلوں سے کھا، پھر اپنے رب کے راستوں پر چل جو مسخر کیے ہوئے ہیں۔ ان کے پیٹوں سے پینے کی ایک چیز نکلتی ہے جس کے رنگ مختلف ہیں، اس میں لوگوں کے لیے ایک قسم کی شفا ہے۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا ایک نشانی ہے جو غور و فکر کرتے ہیں۔(سورۃ النحل: 68، 69)
ان آیات مبارکہ میں شہد کی مکھی کی زندگی کے کئی اہم پہلو بیان کیے گئے ہیں۔ قرآنِ مجید نے اس کے گھر بنانے، پھولوں سے غذا حاصل کرنے، دور دور تک سفر کرنے اور شہد تیار کرنے کا ذکر کیا۔ ساتھ ہی شہد کو انسانوں کے لیے شفا قرار دیا گیا۔ جدید سائنس نے بھی تحقیق کے بعد یہ تسلیم کیا ہے کہ شہد میں قدرتی طور پر ایسے اجزاء موجود ہوتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے نہایت مفید ہیں۔
رسول اکرم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے بھی شہد کی اہمیت اور افادیت کو واضح فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’شفا تین چیزوں میں ہے: شہد پینے میں، پچھنا لگوانے میں اور داغ دینے میں، لیکن میں اپنی امت کو داغ دینے سے منع کرتا ہوں۔‘‘(صحیح بخاری: 5680)
اسی طرح حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اس کے بھائی کو پیٹ کی تکلیف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے شہد پلاؤ۔‘‘وہ شخص دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا کہ بیماری برقرار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ شہد پلانے کا حکم دیا، یہاں تک کہ مریض کو شفا مل گئی۔(صحیح بخاری: 5684)
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے شہد کو نہ صرف ایک غذا بلکہ قدرتی دوا بھی قرار دیا۔ طب نبوی میں شہد کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ قدیم مسلم معالجین جیسے ابن سینا، رازی اور امام ذہبی نے بھی شہد کے طبی فوائد پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ ان کے مطابق شہد جسمانی کمزوری دور کرتا ہے، معدے کو مضبوط بناتا ہے، کھانسی اور نزلہ زکام میں فائدہ دیتا ہے اور جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے۔
جدید سائنس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ شہد غذائیت اور شفا کا خزانہ ہے۔ امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق شہد میں قدرتی طور پر جراثیم کش اور سوزش کم کرنے والی خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔ اسی طرح معروف طبی ادارے میو کلینک کے مطابق ایک سال سے زائد عمر کے بچوں میں شہد کھانسی اور گلے کی خراش میں آرام پہنچا سکتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق شہد میں قدرتی شکر، وٹامنز، معدنی نمکیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔ یہ اجزاء جسم کو فوری توانائی فراہم کرتے ہیں، ہاضمہ بہتر بناتے ہیں اور بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں شہد کو قدرتی غذا اور گھریلو علاج کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
شہد کے بے شمار طبی فوائد ہیں۔ یہ گلے کی سوزش کم کرتا ہے، کھانسی میں آرام دیتا ہے، معدے کی تیزابیت کم کرتا ہے، جسمانی کمزوری دور کرتا ہے اور زخموں کو جلد بھرنے میں مدد دیتا ہے۔ بعض اقسام کے شہد کو جدید طب میں زخموں کے علاج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق شہد میں موجود قدرتی جراثیم کش اجزاء بیکٹیریا کی افزائش کو روکنے میں مدد دیتے ہیں۔
شہد کی مکھی کا سب سے اہم کام بار آوری یا Pollination ہے۔ جب مکھی ایک پھول پر بیٹھ کر رس حاصل کرتی ہے تو پھول کا باریک زرد سفوف اس کے جسم سے چپک جاتا ہے۔ پھر جب یہی مکھی دوسرے پھول پر جاتی ہے تو یہ ذرات وہاں منتقل ہو جاتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں پھول پھل اور بیج میں تبدیل ہوتا ہے۔ اگر یہ عمل نہ ہو تو بہت سی فصلیں اور پھل پیدا ہی نہ ہو سکیں۔سیب، آم، بادام، تربوز، خربوزہ، کھیرا، سورج مکھی، سرسوں اور کپاس جیسی بے شمار فصلیں شہد کی مکھیوں کی مرہون منت ہیں۔ ماہرین کے مطابق دنیا میں ہر تین لقموں میں سے ایک لقمہ کسی نہ کسی طرح شہد کی مکھیوں کی محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اگر شہد کی مکھیاں ختم ہو جائیں تو زرعی پیداوار میں شدید کمی آ سکتی ہے، خوراک مہنگی ہو سکتی ہے اور بعض غذائیں نایاب بھی ہو سکتی ہیں۔
شہد بانی یعنی شہد کی مکھیوں کی پرورش بھی ایک اہم معاشی شعبہ بن چکا ہے۔ کم سرمایہ سے شروع ہونے والا یہ کاروبار دیہی علاقوں میں روزگار کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس سے خالص شہد، موم اور دیگر مصنوعات حاصل ہوتی ہیں جبکہ فصلوں کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی قدرتی غذاوں کے بڑھتے ہوئے رجحان نے شہد بانی کے شعبے کو نئی اہمیت دی ہے۔ اگر حکومت جدید تربیت، معیاری چھتے اور تکنیکی سہولیات فراہم کرے تو یہ شعبہ ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
شہد کی مکھی بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک روشن نشانی ہے۔ قرآن مجید نے اس کا ذکر کیا، احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی افادیت بیان کی اور جدید سائنس نے اس کی غذائی، طبی اور ماحولیاتی اہمیت کو ثابت کیا۔
یہ ننھی سی مخلوق ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بعض اوقات دنیا کی سب سے بڑی نعمتیں بہت چھوٹے وجود میں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ عالمی یومِ شہد کی مکھی کے موقع پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ پھولدار پودے لگائیں گے، زہریلی ادویات کے بے جا استعمال سے بچیں گے اور شہد کی مکھیوں کے قدرتی مسکن کا تحفظ کریں گے۔ کیونکہ شہد کی مکھیوں کا تحفظ دراصل انسانیت کے مستقبل، خوراک اور ماحول کے تحفظ کے برابر ہے۔