ڈاکٹر جمشید نظر
پولیو ایک ایسا خطرناک مرض ہے جو بچوں کو عمر بھر کی معذوری کا شکار بنادیتا ہے،یہ مرض کئی دہائیوں سے ایک چیلنج رہا ہے ۔خوش آئند بات یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک اس موذی مرض کو جڑ سے ختم کرچکے ہیں مگر بدقسمتی سے پاکستان اور افغانستان سمیت چند ایک دیگرایسے ممالک ہیں جہاں پولیو کا وائرس ابھی بھی موجود ہے۔عالمی ادارہ صحت اور پاکستان انسدادپولیو پروگرام کی رپورٹس کے مطابق موجودہ سال 5مارچ تک پاکستان میں چھ پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔پاکستان میں پولیو ویکسین کے قطرے پلانے کا آغاز سن1994میں ہوا تھا ،گذشتہ 31برس سے بچوں کو پولیو سے بچاو کی ویکسین پلائی جارہی ہے اس کے باوجود پولیو کیس رپورٹ ہونا تشویش کی بات تو ہے لیکن یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ پولیو ویکسین کے ذریعے اب تک لاکھوں بچوں کو معذور ہونے سے بچالیا گیا ہے۔پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر لو دپینگ کاکہنا ہے کہ1994 سے لے کر آج تک تین دہائیوں کے دوران عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کے ساتھ مل کر پولیو کیسز میں 99 فیصد سے زائد کمی کی ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں بچوں کو معذوری سے بچایا گیا ہے۔
پاکستان میں ہر چند ماہ بعدپولیو وائرس کو ختم کرنے کے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پرانسداد پولیو مہم چلائی جاتی ہے۔رواں سال کی پہلی پولیو مہم فروری میں شروع ہوئی تھی جس کا افتتاح وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کیا تھا جبکہ اس کے بعد مارچ میں بھی پولیو مہم شروع کی گئی اور اب ملک بھر میں 21اپریل سے 27اپریل تک انسدادپولیو مہم شروع کی جارہی ہے جس کے دوران 45.5ملین بچوں کو پولیو سے بچاو کی ویکسین کے قطرے پلائے جائیں گے۔پولیو مہم میں حصہ لینے والی ٹیموں کی تربیتی ورکشاپس شروع ہوچکی ہیںاس مہم میں 4لاکھ 15پزار سے زائد پولیو ورکرز حصہ لیں گے جن کی سیکیورٹی کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔مہم کے بعد 28اپریل سے30 اپریل تک تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن بھی کی جائے گی تاکہ مہم کی کامیابی کا جائزہ لیا جاسکے۔ پاکستان انسداد پولیو پروگرام کے جاری کردہ اعدادوشمار مطابق پنجاب میں 23.3 ملین،سندھ میں10.6ملین،خیبرپختونخواہ میں 7.3ملین،بلوچستان میں 2.66ملین،آزاد جموں و کشمیر میں 0.74ملین،گلگت بلتستان میں0.28ملین اوراسلام آباد میں 0.46ملین بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان اور افغانستان میں ایک ہی روز یعنی 21اپریل کوپولیومہم شروع ہورہی ہے۔ طالبان حکومت افغانستان میں بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے گی جن کے متعلق پہلے کہا جاتا تھا کہ وہ پولیو ویکسین کو حرام تصور کرتے ہیں۔اب یہ بات دنیا بھر میں واضح ہوچکی ہے کہ پولیو ویکسین میں کسی بھی طرح کا کوئی حرام مادہ موجود نہیںیہ بات عالمی ادارہ صحت،یونیسف،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور لیبارٹری ٹیسٹوں میںبھی ثابت ہوچکی ہے جبکہ علماء کرام بھی کئی مرتبہ لوگوں کو بتاچکے ہیں کہ پولیو ویکسین حلال اور انتہائی محفوظ دواہے اور پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے میں دینی و شرعی اعتبار سے کوئی حرج نہیں بلکہ بچوں کو عمربھر کی معذوری سے بچانے کے لیے پولیو کے قطرے پلانا والدین کا شرعی، قانونی اور اخلاقی فرض ہے۔علماء کرام کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیو ٹیموں پر حملے غیر اسلامی،غیر شرعی اور غیر انسانی ہیں۔ علماء کرام کے بیانات کی روشنی اورلیبارٹری رپورٹس کی تصدیق کے باوجود ابھی بھی پاکستان میں بہت سے لوگ اپنے بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانے سے کتراتے ہیں جس کی وجہ سے یہ وائرس اس ملک سے ختم نہیں ہورہا۔وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے حال ہی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انکشاف کیاکہ پاکستان کے 85 ہزار لوگوں نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے منع کر دیاہے جن میں سے 34 ہزار افراد کراچی اور 27 ہزار افرادکراچی کے ضلع شرقی سے ہیں۔سید مصطفی کمال صاحب کا کہنا تھا کہ کینسر کا علاج توہے لیکن اگر پولیو کی وجہ سے کوئی بچہ معذور ہوگیا تو پوری دنیا میں اس کا علاج نہیں ہے۔
آپ میں سے جو والدین اپنے بچوں کو دو قطرے پلانے سے گریز کرتے ہیں وہ ان بچوں کو عمر بھر دو ٹانگوں پر کھڑا ہونے کا خواب دیکھتے رہ جاتے ہیں۔پولیو جیسے مرض کے خاتمہ کے لئے محض حکومتی اقدامات کافی نہیں ہیں بلکہ اس کے لئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔جب والدین اپنے بچوں کو ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے پولیو سے بچاو کے قطرے پلوائیں گے تب جاکر یہ مہم کامیاب ہوسکے گی اور ملک سے پولیو کا مکمل خاتمہ ہوسکے گا ۔پولیو کے قطرے نہ پلانے والے والدین یہ بات اچھی طرح جان لیں کہ یہ دو قطرے صرف ان کے بچوں کی ٹانگیں ہی نہیں بچاتے بلکہ ان کے بچوں کے خواب ،ان کے ارمان اور ان کا مستقبل بھی بچاتے ہیںاس لئے والدین کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنی اولاد کو کیسا مستقبل دینا چاہتے ہیں ؟