عاصم منیر کا خطاب اور بھارت کا سوگوار چہرہ

شہبزاد راجپوت
امریکہ کے ایوانوں میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا خطاب ایک طرف پاکستان کے لیے عزت و وقار کا سبب بنا تو دوسری طرف بھارت کے لیے یہ دن یومِ سیاہ سے کم ثابت نہ ہوا۔ دہلی کی گلیوں میں اگرچہ چراغ  نہیں بجھائے گئے لیکن بھارتی میڈیا اور حکمران طبقے کے چہروں پر وہی ویرانی چھا گئی ہے جو شکست خوردہ فوج کے خیموں پر چھایا کرتی ہے۔بھارتی میڈیا کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے کسی نے ان کی زبانوں پر مرچیں چھڑک دی ہوں۔ کبھی امریکہ کو کوس رہے ہیں کہ پاکستان کو اتنی اہمیت کیوں دی اور کبھی عاصم منیر کے الفاظ کوسفارتی ڈرامہ کہہ کر اپنے عوام کو بہلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے  وہ خود جانتے ہیں  یہ ڈرامہ نہیں بلکہ حقیقت کا وہ آئینہ ہے جس میں بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔بھارت کے ماتمی نوحے کی وجہ صاف ہے  پاکستان اب جھکنے والا نہیں ہے۔ جنرل عاصم منیر نے امریکہ میں کھڑے ہو کر جو لہجہ اپنایا ہے اس نے دہلی کے حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ وہ بھارت جس نے کشمیر پر قبضہ کر کے یہ سمجھا تھا  دنیا ہمیشہ اس کی ہاں میں ہاں ملائے گی وہ اب دیکھ رہا ہے  پاکستان کی بات براہِ راست عالمی طاقتوں کے کانوں تک پہنچ رہی ہے۔ یہ وہی لمحہ ہے جو بھارت کو اندر سے کھا رہا ہے۔بھارت کی تکلیف اس لیے بھی بڑھ گئی ہے  امریکہ کے ایوانوں میں یہ سوال اب سنجیدگی سے اٹھایا جا رہا ہے کیا واقعی بھارت خطے کا مستند پولیس مین ہے یا پھر انسانی حقوق کا بدترین مجرم۔ عاصم منیر کے خطاب نے امریکہ کو یہ باور کرایا  امن صرف اس وقت ممکن ہے جب پاکستان کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ بھارت کے لیے یہی جملہ ایک کاری ضرب ہے۔بھارتی میڈیا اب بھی پرانے راگ الاپ رہا ہے  پاکستان ٹوٹ رہا ہے ،پاکستان تنہا ہے اور پاکستان معیشت میں ناکام ہے لیکن حقیقت یہ ہے  آج خود بھارت کی حالت ایسی ہے جیسے کوئی دولہا شادی کے دن ہی دلہن کے ہاتھوں دھتکار دیا جائے۔ چیخیں جتنی مرضی ماریں، حقیقت یہ ہے  امریکہ میں عاصم منیر کا خطاب بھارت کے لیے سوگوار اعلان ہے۔پاکستان کے فیلڈ مارشل کا خطاب بھارت کے لیے کسی بم دھماکے سے کم نہیں ہے۔ دہلی میں جتنے ماہرین بیٹھے ہیں وہ سب اب تعویذ ڈھونڈ رہے ہیں تاکہ اپنے عوام کو جھوٹی تسلی دے سکیں لیکن سچ یہ ہے  پاکستان کی جرات مندانہ سفارتکاری نے بھارت کا وہ غرور چکنا چور کر دیا ہے جو برسوں سے مصنوعی طریقے سے پالا جا رہا تھا۔آج بھارت کے چہروں پر جو سوگ ہے وہ کل کے پاکستان کی کامیابی کا پیش خیمہ ہے۔