اسحاق ڈار کے دورہ ترکیہ کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
یہ دورہ وزیر خارجہ حکان فدان کی دعوت پر کیا جا رہا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اس دورہ کے دوران غزہ امن اجلاس میں شرکت کریں گے، جس میں آٹھ بڑے مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ شامل ہو رہے ہیں۔پاکستان کے علاوہ، قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شریک ہوں گے، جبکہ متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور اردن کے وزرائے خارجہ بھی موجود ہوں گے۔اسحاق ڈار اجلاس میں پاکستان کی غزہ کے لیے بھرپور حمایت کا اعادہ کریں گے اور اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت بھی کریں گے۔ اس کے علاوہ، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ دیگر شریک وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔اجلاس میں غزہ کے امن منصوبے کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا، جس میں فلسطینی قیدیوں اور اسرائیلی یرغمالیوں کے تبادلے، اسرائیلی قابض افواج کے انخلا، امدادی کارروائیوں، امداد کی رسائی اور راہدایوں کی بندش پر بات چیت ہوگی۔
شرکاء غزہ پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کریں گے اور قیام امن کے لیے اقدامات پر زور دیں گے۔ اس کے علاوہ، امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے 8 مسلم ممالک نے ایک گروپ تشکیل دیا تھا، جس کا قیام حالیہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران عمل میں آیا تھا۔یہ دورہ اور اجلاس علاقائی امن و استحکام کے لیے اہم قرار دیے جا رہے ہیں، اور پاکستان کی حمایت سے غزہ میں قیام امن کی کوششیں تیز ہونے کی توقع ہے۔