موٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں ایک ماہ توسیع کا فیصلہ‘وزیراعظم کی سفری کرایوں اور مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں اضافہ روکنے کی ہدایت

گھر بنانے کیلئے ایک کروڑتک قرض دیا جائیگا شہبازشریف
عام آدمی کو چھت کی فراہمی ہماری حکومت کی ترجیح،  تعمیراتی شعبے سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے ‘ گھر چاہے پانچ مرلے کا بنے یا  سات اور 10 مرلے کا، تمام لوگوں کا کاروبار چلے گا، ایسے منصوبوں سے  صنعت اور معیشت کو بے پناہ تقویت ملے گی 
 سکیم میں شامل بینکوں کو 14 اگست کو میڈل دئیے جائیں گے، حکومت برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، مایہ ناز برآمد کنندگان کو سفیر عمومی بنایا:وزیراعظم کا قرض کیلئے  اہل افراد کو بینک چیک تقسیم کر  نے کی تقریب  سے خطاب 
حکومت بچوں کے محفوظ مستقبل کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے‘ پاکستان انسداد پولیو کو اولین ترجیح دیتا ہے اور اس موذی مرض کے مکمل خاتمے کے لئے پرعزم ہے:وزیراعظم کی  یونیسیف کے وفد سے ملاقات میں گفتگو

اسلام آباد(آئی این پی‘آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے  وفاقی بجٹ کی آمد آمد ہے اور اس میں ہم بڑی چیزیں لے کر آئیں گے،  تعمیراتی شعبے سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے، گھر چاہے پانچ مرلے کا بنے یا پھر سات اور 10 مرلے کا، تمام لوگوں کا کاروبار چلے گا، ایسے منصوبوں سے ہماری صنعت اور معیشت کو بے پناہ تقویت ملے گی،حکومت برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے ۔ان خیالات کااظہار   وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم اپنا گھر سکیم کا باضابطہ اجرا کرتے ہوئے قرض کے لئے  اہل افراد کے درمیان بینک چیک تقسیم کر  نے کی تقریب سے    خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم اپنا گھر سکیم کے تحت ایک کروڑ روپے تک قرض آسان شرائط پر دیا جا رہا ہے، اس سکیم کا اطلاق چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنا گھر سکیم کے تحت قرض حاصل کرنے والے کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ وزیراعظم اپنا گھر سکیم کی تقریب میں شرکت میرے لیے باعث مسرت ہے، چھت کی فراہمی مقدس فریضہ ہے، بجٹ میں بڑی چیزیں لے کر آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ ریاست یا کسی بھی حکومت کیلئے عام آدمی کو چھت فراہمی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، عام آدمی کو چھت کی فراہمی ہماری حکومت کی ترجیح ہے، گھر ہو تو اپنا،اس حوالے سے یہ تقریب انتہائی یادگار ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سکیم کے تحت پہلا ہدف 50 ہزار گھروں کے لیے قرض ہے، اس سکیم کے لیے 321 ارب روپے کی فنانسنگ مختص کی گئی ہے، آئندہ 4 برس میں ہمارا ہدف 5 لاکھ گھروں کا ہے، سکیم کو کامیاب بنانے میں بے حد محنت کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومتی اکابرین اور نجی شعبے کی مشاورت سے سکیم کا اجرا کیا جا رہا ہے، آج کی اس تقریب میں ڈرائیور غلام حسین کو بھی گھر بنانے کیلئے قرض ملا، لوگوں کی بڑی تعداد جو اپنے گھر سے محروم ہے، اس سکیم کے تحت 10 مرلے کی زمین تک گھر بنایا جا سکے گا، ماہانہ بنیادوں پر سکیم پر عملدرآمد کا خود جائزہ لوں گا۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ تعمیراتی شعبے سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے، سکیم میں شامل بینکوں کو 14 اگست پر میڈل دئیے جائیں گے، حکومت برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، مایہ ناز بر آمد کنندگان کو سفیر عمومی بنایا، 2 سال کیلئے بلیو پاسپورٹ دیا۔دریں اثناء  وزیراعظم نے معاشی صورتحال کے پیش نظر موٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے گزشتہ ماہ دی گئی سبسڈی میں ایک ماہ کی مزید توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم نے سفری کرایوں اور مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں اضافے کو روکنے کی ہدایت کردی اور کہا ہے کہ عوامی ریلیف کے اقدامات کی مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے تاکہ اس کے ثمرات براہِ راست مستحق افراد تک پہنچ سکیں۔علاوہ ازیں  شہباز شریف سے یونیسیف کے اعلیٰ سطح کے وفد نے ملاقات کی، جس میں بچوں کی صحت، انسداد پولیو اور سیسے (Lead) کے مضر اثرات کے خاتمے سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی‘وزیرِ اعظم نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا  حکومت بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انسداد پولیو کو اولین ترجیح دیتا ہے اور اس موذی مرض کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سیسے کے مضر اثرات بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما پر منفی اثر ڈالتے ہیں، جس کے تدارک کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔وفد نے پاکستان میں جاری اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت کی قیادت میں صحت، تعلیم، نوجوانوں کی تربیت اور آئی ٹی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے۔ وفد نے سیسے کے صحت پر نقصانات، اس کے پھیلاؤ کے علاقوں اور عوامی آگاہی کی ضرورت پر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے بچوں کی صحت کے تحفظ اور بیماریوں کے خاتمے کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔