امریکا اور یوکرین کے درمیان توانائی اور معدنی وسائل کے مشترکہ استعمال کا معاہدہ

امریکا اور یوکرین کے درمیان توانائی اور معدنی وسائل کے مشترکہ استعمال کا معاہدہ

واشنگٹن: امریکہ نے یوکرین کے ساتھ توانائی اور معدنی وسائل کے مشترکہ استعمال کے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جسے یوکرین کے لیے امریکی فوجی امداد تک رسائی کے حوالے سے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

 یہ معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی حکام کے درمیان کئی ماہ کی مذاکرات کے بعد طے پایا ہے۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، اس معاہدے کا تعلق دنیا کے موجودہ نایاب معدنی ذخائر سے ہے اور یہ اس وقت ہوا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ زوروں پر ہے۔امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، امریکہ نے یوکرین ری کنسٹرکشن انویسٹمنٹ فنڈ میں فروری 2022 میں روس کے حملے کے بعد یوکرین کو دی جانے والی مالی اور جنگی ساز و سامان کی مدد کو تسلیم کیا ہے۔امریکی وزیر خزانہ، سکاٹ بیسنٹ نے معاہدے کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں فریقوں کے لیے یوکرین میں دیرپا امن اور خوشحالی کے لیے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔یوکرین میں گریفائٹ، ٹائٹینیم اور لیتھیم جیسے اہم معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جو کہ قابل تجدید توانائی، فوجی ساز و سامان کی تیاری اور صنعتوں کے بنیادی ڈھانچے میں استعمال ہوتے ہیں، اس لیے ان معدنیات کی عالمی سطح پر بہت زیادہ مانگ ہے۔اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے تعمیر نو سرمایہ کاری فنڈ کے قیام پر اتفاق کیا ہے جس کا مقصد روس کے ساتھ جنگ کے بعد یوکرین کی معاشی بحالی کو فروغ دینا ہے۔

یوکرین کی نائب وزیر اعظم، یولیا سویریڈینکو نے بدھ کے روز واشنگٹن جا کر اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نیا فنڈ یوکرین میں عالمی سرمایہ کاری کو راغب کرے گا اور اس معاہدے میں معدنیات، تیل اور گیس کے منصوبے شامل ہیں، اور معدنی وسائل یوکرین کی ملکیت رہیں گے۔معاہدے کی تفصیلات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اس شراکت داری میں دونوں فریق 50:50 کی بنیاد پر شراکت داری کریں گے، اور یوکرین کی حکومت سے اس معاہدے کی توثیق ضروری ہوگی۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ یوکرین کو فضائی دفاعی نظام اور دیگر نئی امداد فراہم کرے گا۔صدر ٹرمپ نے کیئو کو کسی بھی مستقبل کی سلامتی کی ضمانتوں کے لیے اس معاہدے کو ایک شرط کے طور پر بار بار پیش کیا ہے، جس میں یوکرین کو امریکی سکیورٹی امداد کے بدلے میں اپنے قدرتی وسائل تک رسائی دینے کی بات کی گئی ہے۔

یہ معاہدہ امریکی حکام کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، تاہم یوکرین کے صدر، ولادیمیر زیلنسکی نے واشنگٹن سے کچھ رعایتیں حاصل کی ہیں۔ مذاکرات کے دوران یوکرین نے کچھ شرائط کو دوبارہ منوانے کی کوشش کی، جن میں فنڈ کی گورننس اور شفافیت کے معاملات شامل تھے۔نتیجہ: یہ معاہدہ یوکرین کی اقتصادی بحالی، عالمی سرمایہ کاری کے فروغ اور توانائی و معدنی وسائل کے اشتراک کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا، اور یہ امریکہ اور یوکرین کے درمیان مزید قریبی تعلقات کی بنیاد فراہم کرے گا۔