دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں 28 فروری 2025 کو نمازِ جمعہ کے بعد ایک خودکش دھماکہ ہوا، جس میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ اور دارالعلوم کے نائب مہتمم، مولانا حامد الحق حقانی سمیت 8 افراد شہید اور 18 زخمی ہوئے۔
مولانا حامد الحق، مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے تھے اور 2002 سے 2007 تک قومی اسمبلی کے رکن رہے۔ والد کی شہادت کے بعد، انہوں نے جے یو آئی (س) کی قیادت سنبھالی تھی۔شہادت کے بعد، دارالعلوم حقانیہ میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں ہزاروں علما، مشائخ، سیاسی و سماجی شخصیات اور عوام نے شرکت کی۔ اس موقع پر، مولانا عرفان الحق حقانی نے اعلان کیا کہ حقانی خاندان اور مشائخ دارالعلوم حقانیہ کے متفقہ فیصلے کے مطابق، مولانا راشد الحق حقانی، جو مولانا سمیع الحق شہید کے صاحبزادے ہیں، کو دارالعلوم حقانیہ کا نائب مہتمم مقرر کیا گیا ہے۔مزید برآں، جنازے میں شریک تمام افراد نے ہاتھ اٹھا کر مولانا راشد الحق سمیع کی بطور نائب مہتمم اور مولانا عبدالحق ثانی کو ان کے شہید والد کا سیاسی جانشین بننے کی تائید کی۔ شرکاء نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اعلائے کلمة اللہ اور ملک میں قیام امن کے لیے مولانا حامد الحق شہید کے مشن میں نئے قائدین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔
نومنتخب نائب مہتمم، مولانا راشد الحق حقانی نے جنازے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک ہمارا ہے اور ہمارے آبا و اجداد نے اس کی بقا کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے والد مولانا سمیع الحق شہید اور برادرم مولانا حامد الحق شہید بھی اس ملک کے لیے قربان ہوگئے۔مولانا عبدالحق ثانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم حق کا راستہ کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ یہ دھماکے، حملے اور دھمکیاں ہمارے مشن میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک حقانی خاندان کا ایک فرد بھی زندہ ہے، ہم مولانا سمیع الحق شہید کا مشن اور حق کا راستہ نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے دنیا کو پیغام دیا کہ دین اور اسلام پر کبھی کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔نمازِ جنازہ کے بعد، مولانا حامد الحق حقانی شہید کو ان کے والد مولانا سمیع الحق شہید کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا۔