ہم نے 12 فروری کو پی ٹی آئی کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا تھا مگر ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا،، سینیٹر کامران مرتضیٰ کی گفتگو
عید کے بعد تحریک کا اعلان عمران خان نے کیا، ہم ان کے حکم کے پابند نہیں،پی ٹی آئی کیساتھ جو فاصلے کم کیے تھے وہ بڑھتے نظر آرہے ہیں، ترجمان جے یو آئی( ف)
اسلام آباد(یواین پی)جمعیت علمائاسلام (ف)کے رہنماء سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہماری جماعت کے اختلافات باقی ہیں، ہم نے 12 فروری کو پی ٹی آئی کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا تھا مگر ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا، گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی ف کے سینیٹر نے پی ٹی آئی کے ساتھ سڑکوں پر آنے کے امکانات کو مسترد کردیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے اختلافات یقیناً باقی ہیںمگر ابھی کچھ ایشوز پرہم اکٹھے ہیں۔پی ٹی آئی کو خیبر پختونخوا میں انتخابات کا آڈٹ کرانے کی تجویز دی تھی جو انہوں نے پہلے مانی اور پھر مسترد کردی۔پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ انتخابات کا آڈٹ پورے ملک میں کرانا چاہیے۔جب 2024 کے انتخابات کا وقت آیا تو یہ کہا گیا کہ مولانا کو محدود رکھا جائے اور ہم تک یہ بات پہنچا دی گئی۔جو انتظام تھا اس میں مولانا فضل الرحمان فٹ نہیں ہورہے تھے۔دوسری جانب جمعیت علماء اسلام نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ جو فاصلے ہم نے کم کیے تھے، ہمیں وہ فاصلے بڑھتے نظر آ رہے ہیں، عید کے بعد تحریک شروع کرنے کا اعلان عمران خان نے کیا، ہم ان کے حکم کے پابند نہیں ہیں۔ترجمان جے یو آئی ف اسلم غوری نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپوزیشن جماعتوں کی قومی یکجہتی کانفرنس میں بطور مبصر شامل ہوئے، بطور مبصر ہی ہم نے اپنا نقطہ نظر ان کے سامنے رکھا اور جو چیزیں پی ٹی آئی کے ساتھ ہوئیں وہ چیزیں کامران مرتضیٰ نے سامنے رکھیں۔پی ٹی آئی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا 26 ویں ترمیم اس وقت نظر نہیں آ رہی تھی جب ہم پارلیمنٹ جا رہے تھے؟ ، اب وہ ایسا دکھا رہے ہیں جیسے ہم نے دغا کیا، اس طرح تو اتحاد آگے نہیں بڑھتا، ٹرسٹ ڈیفیسٹ ہوا تو معاملات آگے کیسے چلیں گے، ہم مکمل اعتماد نہ ہونے کی صورت میں کسی اتحاد کا حصہ بننے کے حق میں نہیں۔تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے اسلم غوری نے کہا کہ ہمارے اور پی ٹی آئی کے مابین بڑے اختلافات تھے، ہم نے گالیوں کو برداشت کرکے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا، ہم نے تحفظات کا اظہار کیا لیکن 12 دن گزرنے کے باوجود جواب نہیں دیا۔ پی ٹی آئی کے ساتھ جو فاصلے ہم نے کم کیے تھے ہمیں وہ فاصلے بڑھتے نظر آ رہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ان کے ساتھ آگے چلنا مشکل ہو جائے، ہماری تحریک کسی کی محتاج نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے عید کے بعد ہم اسلام آباد کی جانب بڑھیں یا ہم اسلام آباد کے قریب کسی جگہ احتجاج کریں، ہمارا احتجاج تو جاری ہے اور ہم ان کے انتظار میں نہیں ہیں، عید کے بعد تحریک شروع کرنے کا اعلان بانی پی ٹی آئی نے کیا لیکن ہم تو بانی پی ٹی آئی کے حکم کے پابند نہیں ہیں۔ترجمان نے کہا کہ جب تک ہمارے خدشات ختم نہیں ہوں گے تب تک پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد میں بیٹھنا اور آگے چلنا ہی مشکل ہوگا، پی ٹی آئی کے ساتھ تحریک تو بہت آگے کی بات ہے۔