اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین نے سراہا ہے اور پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک مذاکرات ہوئے ہیں، جن میں سیکیورٹی، معیشت اور باہمی تعاون کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ماضی میں بھی خطے میں کشیدگی کے دوران رابطے میں رہا ہے، اور امریکا ایران تنازع سمیت مختلف عالمی امور پر سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے دہشت گردی سے متعلق خدشات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں موجود بعض عناصر پاکستان کے لیے سیکیورٹی چیلنج بنے ہوئے ہیں، جن پر بھی یورپی فریق کے ساتھ بات چیت کی گئی ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، جبکہ تجارتی، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون میں مزید وسعت پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت تجارتی تعلقات دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہیں اور اسلام آباد میں پاکستان-یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد بھی اہم پیش رفت ہے۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے جبکہ انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے۔ انہوں نے افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خدشات کو پاکستان کے لیے بدستور بڑا مسئلہ قرار دیا۔