ٹرمپ انتظامیہ کا امیگرینٹس کو ملازمتوں، ہیلتھ کئیر سے دورکرنے کے منصوبے پر عمل شروع

 بوسٹن کے ائیرپورٹ پر3 عشروں سے کام کرنے والے سوشل سکیورٹی نمبرکے حامل کئی ملازم فارغ کردیے گئے‘ 
واشنگٹن (آئی این پی) امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نے امیگرینٹس کو ملازمتوں، ہائوسنگ اور ہیلتھ کئیر سہولیات سے دورکرنے کے منصوبے پر عمل شروع کردیا۔ میڈیارپورٹ کے مطابق بوسٹن کے ائیرپورٹ پر3 عشروں سے کام کرنے والے سوشل سکیورٹی نمبرکے حامل کئی ملازمین فارغ کردیے گئے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ امیگرینٹس کی جگہ امریکی شہریوں،گرین کارڈ ہولڈرز اوربعض دیگرکو رسائی دی جائے گی۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مقصد ہے کہ امیگرینٹس امریکا چھوڑدیں، ہدف ہے کہ امریکا آنے والوں کو مراعات حاصل نہ ہوں، کئی امیگرینٹس نے ڈر سے ٹیکس گوشواریجمع کرانا، ڈاکٹروں کو دکھانا اور سیاحت کیے لیے جانا چھوڑ دیا جبکہ مستقل قانونی درجہ نہ رکھنے والے ایک لاکھ 16ہزار افراد امریکا چھوڑ چکے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے والدین میں سے کسی ایک کے امریکی شہری نہ ہونے پرامریکا میں پیدا بچے کو وفاقی سبسڈی نہ دینے پرغور کیا جا رہا ہے، غیرشہریوں بشمول گرین کارڈ ہولڈرز پربزنس لون لینے پر پہلے ہی پابندی لگائی جاچکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیاسی پناہ لینے والے افراد پر کام کا پرمٹ لینے پر اس سال سے پابندی لگانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔