روس کی پاکستان اور افغانستان سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات سے تنازع حل کرنے کی اپیل

روس کی پاکستان اور افغانستان سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات سے تنازع حل کرنے کی اپیل

ماسکو: روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مسلح تصادم سے گریز کریں اور تمام اختلافات سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل کریں۔

روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ روس نے دونوں ہمسایہ ممالک پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ماسکو چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کسی بھی قسم کے فوجی تصادم سے اجتناب کریں اور باہمی اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کریں تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رہے۔روسی بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے افغانستان سے آنے والے چار ڈرونز مار گرانے کا اعلان کیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان طالبان حکومت نے 30 جون کو بلوچستان کی سرحد کی جانب چار ڈرونز بھیجے، تاہم پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے بروقت ان کی نشاندہی کرتے ہوئے تمام ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور بھرپور تیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے تمام مذموم عزائم ناکام بنائے اور ملکی فضائی حدود کا مؤثر دفاع کیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ صورتحال میں روس کی جانب سے سفارتی حل پر زور دینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ علاقائی طاقتیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے سے بچنے کی خواہاں ہیں۔