پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر اسیر رہنماؤں نے پارٹی قیادت کو ملک کے سنگین سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے حکومت سے فوری مذاکرات کی تجویز دے دی ہے، تاہم یہ شرط عائد کی ہے کہ مذاکراتی عمل کی بنیاد بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات پر رکھی جائے۔
خط کے دستخط کنندگان:
یہ خط جیل میں قید رہنماؤں کی جانب سے لکھا گیا ہے، جن میں شامل ہیں:
شاہ محمود قریشی (سینئر نائب صدر)
ڈاکٹر یاسمین راشد
میاں محمود الرشید
اعجاز چوہدری
عمر سرفراز چیمہ
خط کے اہم نکات:
خط میں درج ذیل نکات پر زور دیا گیا ہے:
ملک بدترین بحران سے گزر رہا ہے
’’ملکی تاریخ کے بدترین سیاسی و معاشی بحران سے نکلنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔‘‘
ہر سطح پر بات چیت کی ضرورت
’’مذاکرات صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہ ہوں، بلکہ سیاسی و مقدرہ دونوں سطحوں پر رابطے ضروری ہیں۔‘‘
مذاکرات کا آغاز سیاسی سطح سے ہو
’’تحریک انصاف کے لاہور کے قیدی رہنماؤں کو ابتدائی مذاکراتی عمل کا حصہ بنایا جائے۔‘‘
عمران خان تک رسائی ضروری
’’مذاکراتی کمیٹی کے قیام کے لیے بانی چیئرمین عمران خان تک رسائی دی جائے تاکہ وہ قیادت سے مشاورت کر سکیں۔‘‘
ملاقات کا تسلسل برقرار رہے
’’لیڈرشپ سے مشاورت کا عمل ایک بار نہیں بلکہ مسلسل جاری رہنا چاہیے تاکہ پائیدار حکمت عملی بنائی جا سکے۔‘‘
پس منظر:
یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب:
پی ٹی آئی قیادت اور حکومت کے درمیان مسلسل کشیدگی ہے۔
بانی چیئرمین عمران خان جیل میں قید ہیں اور ان تک پارٹی رہنماؤں کی رسائی محدود ہے۔
سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطوں کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔