پاکستانی اداکارہ اور میزبان مشی خان نے حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر مقبول ہونے والی چینی گڑیا لبوبو ڈول (Labubu Doll) کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک ’’خوفناک، شیطانی شے‘‘ قرار دیا ہے۔
لبوبو ڈول کیسا ہے؟
یہ گڑیا اپنے عجیب و غریب نین نقش، نوکیلے دانتوں اور جانور جیسے جسمانی خدوخال کی وجہ سے دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔چینی کمپنی پاپ مارٹ (POP MART) اسے تیار کرتی ہے۔قیمت: 7 ہزار سے 35 ہزار روپے تک (اصل ورژن)، جب کہ جعلی ورژنز بھی مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔
شوبز انڈسٹری میں مقبولیت
پاکستانی شوبز دنیا کی کئی معروف شخصیات جیسے:
سجل علی
مایا علی
ہانیہ عامر
نے اس گڑیا کو فیشن ایکسیسری کے طور پر استعمال کیا، اکثر یہ گڑیا مہنگے بیگز پر لٹکتی دکھائی دیتی ہے، جسے ایک نیا سوشل میڈیا اسٹائل ٹرینڈ سمجھا جا رہا ہے۔
مشی خان کا ردعمل
مشی خان نے اس گڑیا کو ’شیطانی قوتوں کی سازش‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ:"یہ گڑیا صرف ایک کھلونا نہیں بلکہ یہ منفی توانائیوں، بدقسمتی اور جنات کو دعوت دے سکتی ہے۔"
اداکارہ نے اس رجحان کو "بھیڑ چال" سے تعبیر کیا اور کہا:"صرف اس لیے کہ کوئی چیز ٹرینڈنگ ہے، ہم سب اسے اپنا لیں؟ یہ کوئی فیشن نہیں بلکہ خطرناک علامت ہے۔"
تجارتی پہلو:
لبوبو ڈول کی بڑھتی مقبولیت کے باعث اس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔بنانے والی کمپنی ملین ڈالرز کا بزنس کر چکی ہے، اور سوشل میڈیا پر اس گڑیا کا ہیش ٹیگ لاکھوں بار شیئر کیا جا چکا ہے۔
عوامی ردعمل:
سوشل میڈیا پر مشی خان کے بیان کو مخلوط ردعمل ملا:کچھ صارفین نے ان کی بات سے اتفاق کیا کہ "بچوں کے کھلونوں کو شیطانی علامت نہیں بنانا چاہیے"۔جب کہ کچھ نے اسے "ضرورت سے زیادہ مذہبی یا خوف زدہ سوچ" قرار دیا۔
نتیجہ:
لبوبو ڈول ایک عام کھلونے سے بڑھ کر ایک ثقافتی اور روحانی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ مشی خان جیسے فنکاروں کی تنقید سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والے ہر ٹرینڈ کو اندھا دھند اپنانے کے بجائے سوچ سمجھ کر قبول کرنا ضروری ہے، خاص طور پر جب بات علامتی یا روحانی حساسیت کی ہو۔