سرکلر روڈ کی بحالی کے منصوبے میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں حکومت نے 2300 دکانیں زیر زمین تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں کیے گئے اہم فیصلے:
گرائی گئی 2300 دکانوں کو جدید طرز پر زیر زمین دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔
زیر زمین پارکنگ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ شہریوں کو پارکنگ مسائل سے نجات ملے۔
کاروباری افراد کے سالانہ نقصان کا تخمینہ لگا کر ادائیگی کی جائے گی۔
متاثرہ دکانداروں کو ایک سال کا کاروباری نقصان حکومت کی جانب سے ادا کیا جائے گا۔
رواں سال ہی زمین واگزار کروا کر تعمیراتی کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔
ثقافتی ورثے کی بحالی بھی شامل
منصوبے کے تحت لاہور کے 12 تاریخی دروازوں کی بحالی بھی شامل ہے، جس سے شہر کی تاریخی و ثقافتی شناخت کو تحفظ ملے گا اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔
حکومتی عزم اور اہداف
حکومتی ذرائع کے مطابق:
اس منصوبے کا مقصد شہر کی خوبصورتی، ٹریفک کی روانی اور تاریخی ورثے کا تحفظ ہے۔
جدید شہری منصوبہ بندی کے ذریعے لاہور کو ماڈرن اور کلچرل ہب بنایا جا رہا ہے۔
زیر زمین دکانوں کی تعمیر سے شہر کے جمالیاتی حسن کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
کاروباری برادری کی جانب سے ملا جلا ردعمل
متاثرہ دکانداروں کی اکثریت نے حکومتی پیشکش کو سراہا ہے تاہم وہ چاہتے ہیں کہ:
دکانوں کی دوبارہ الاٹمنٹ شفاف انداز میں ہو۔
معاوضوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔
پس منظر
یاد رہے کہ سرکلر روڈ لاہور کے تاریخی دروازوں اور اندرون شہر کے اہم علاقوں سے گزرتا ہے۔ اس کی بحالی کا منصوبہ کئی سالوں سے تاخیر کا شکار رہا، تاہم اب حکومت نے اسے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔