پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ کے ذریعے علاج کی سہولت ختم کر دی گئی ہے، جس کے باعث شہریوں میں شدید پریشانی اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
پنجاب کے وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ بند ہونے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
وزیر صحت کا مؤقف: “مفت علاج پہلے سے دستیاب ہے”
خواجہ سلمان رفیق کے مطابق:
ہیلتھ کارڈ کی سہولت اب صرف پرائیویٹ ہسپتالوں میں دستیاب رہے گی
سرکاری اسپتالوں میں پہلے سے ہی مفت علاج کی سہولت موجود ہے
نئے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں دواؤں کی مد میں 33 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں
سرکاری ہسپتالوں میں دواؤں کی قلت نہیں ہے، نظام بہتر بنایا جا رہا ہے
وزیر صحت نے دعویٰ کیا کہ:“ہیلتھ کارڈ کا سرکاری اسپتالوں میں استعمال بند ہونے سے عوام کو نقصان نہیں ہوگا کیونکہ ان اداروں میں تمام سہولیات ویسے ہی موجود ہیں۔”
عوامی ردعمل: “یہ غریبوں کے ساتھ زیادتی ہے”
دوسری جانب شہریوں اور مریضوں نے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے:
شہریوں کا کہنا ہے کہ ہیلتھ کارڈ ایک سہولت اور وقار کی علامت بن چکا تھا
بعض مریضوں نے شکوہ کیا کہ تمام دوائیں مفت نہیں ملتیں، اور اب کارڈ بند ہونے سے معیار اور رسائی متاثر ہوگی
شہریوں نے فیصلے کو “غریب عوام کے خلاف اقدام” قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ فیصلہ واپس لیا جائے
سیاسی اور ماہرین کا تجزیہ
سیاسی تجزیہ کاروں اور ماہرین صحت کے مطابق:
یہ فیصلہ ہیلتھ انشورنس ماڈل سے پیچھے ہٹنے کا عندیہ دیتا ہے
سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج کی دعویٰ شدہ سہولت عملی طور پر غیر مساوی ہے
پرائیویٹ اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ کی سہولت جاری رکھنا محدود پیمانے پر فائدہ مند ہو گا، مگر عام شہری اب سرکاری نظام سے محروم ہو جائے گا
پس منظر: صحت سہولت کارڈ کا آغاز
ہیلتھ کارڈ (سہولت کارڈ) سابقہ حکومت نے متعارف کرایا تھا
اس کا مقصد غریب شہریوں کو معیاری علاج کی مفت فراہمی تھا
ابتدا میں یہ کارڈ پرائیویٹ اور سرکاری دونوں ہسپتالوں میں قابل استعمال تھا
لاکھوں مریض اس سہولت سے دل، گردوں، کینسر، سرجری جیسی مہنگی بیماریوں کا علاج کروا چکے ہیں
نتیجہ: سہولت یا سیاست؟
ہیلتھ کارڈ کی سرکاری اسپتالوں میں بندش نے ایک مرتبہ پھر سہولت اور سیاست کے درمیان حد کھینچ دی ہے۔
جہاں حکومت بجٹ کے دباؤ اور نظام میں بہتری کی بات کر رہی ہے، وہیں عوام اپنی بنیادی طبی سہولتوں کے چھن جانے پر سراپا احتجاج ہیں۔