صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اہم فیصلے: شام پر پابندیاں ختم، کیوبا پر سخت پالیسی بحال

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اہم فیصلے: شام پر پابندیاں ختم، کیوبا پر سخت پالیسی بحال

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی سطح پر دو اہم خارجہ پالیسی فیصلے کرتے ہوئے ایک جانب شام پر عائد معاشی پابندیاں ختم کرنے کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا ہے، جبکہ دوسری طرف کیوبا پر سخت گیر پالیسی دوبارہ نافذ کر دی گئی ہے، جو سابق صدر جو بائیڈن کی نرم پالیسی سے ہٹ کر ایک واضح یو ٹرن ہے۔

 شام پر پابندیاں ختم، مگر بشارالاسد اور ایران مخالف پالیسی برقرار
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کے مطابق:

شام پر عمومی معاشی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں
تاہم سابق شامی صدر بشارالاسد، داعش اور ایران کے حمایت یافتہ گروہوں پر پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی
امریکا اس بات کا بھی جائزہ لے رہا ہے کہ آیا شام کو "دہشتگردی کی معاون ریاست" کی فہرست میں برقرار رکھا جائے یا نہیں
شامی ردعمل
شامی وزارت خارجہ نے امریکی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے "مثبت پیش رفت" قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے شام کی معاشی بحالی میں مدد ملے گی۔

 کیوبا پر پابندیاں دوبارہ سخت، بائیڈن پالیسی مسترد
امریکی وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے کیوبا سے متعلق نئی سخت پالیسی پر بھی دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت:

معاشی پابندیاں بحال کر دی گئی ہیں
امریکی شہریوں پر کیوبا کا سفر ایک بار پھر ممنوع قرار دے دیا گیا ہے
سابق صدر جو بائیڈن کی نرمی پر مبنی پالیسیوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے
وائٹ ہاؤس ترجمان کا کہنا ہے کہ:

"کیوبا کی حکومت انسانی حقوق کی پامالی اور عوامی آزادیوں کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے، جس پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔"
 تجزیہ: ایک طرف نرم رویہ، دوسری طرف سخت پیغام
تجزیہ کاروں کے مطابق:

شام پر پابندیاں ختم کرنا ممکنہ طور پر خطے میں امریکی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش ہے
جبکہ کیوبا پر سختی سے داخلی سیاسی حلقوں کو مطمئن کرنے کی حکمت عملی جھلکتی ہے
ان فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک بار پھر "امریکا فرسٹ" نظریہ کو عالمی پالیسیوں میں نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

 نتیجہ: دو متضاد مگر سیاسی طور پر نمایاں فیصلے
صدر ٹرمپ کے یہ فیصلے امریکی خارجہ پالیسی میں ایک نئے دور کا آغاز کہلائے جا رہے ہیں — ایک طرف شام کو جزوی ریلیف، تو دوسری جانب کیوبا کے خلاف پرانی سخت گیر لائن کی واپسی۔