سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام پر عائد سخت اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جو کہ گزشتہ برس بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد سے نافذ تھیں۔
اہم نکات:
یہ اعلان ریاض میں منعقدہ سعودی سرمایہ کاری فورم کے دوران کیا گیا۔ٹرمپ نے یہ فیصلہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان سے مشاورت کے بعد کیا۔ان کے مطابق:"شام نے کئی برسوں تک جنگ، قتل و غارت اور تباہی دیکھی ہے، اب وقت ہے کہ ہم ان کے ساتھ معمول کے تعلقات کی بحالی کی طرف قدم بڑھائیں۔"ٹرمپ نے مزید کہا:"پابندیاں ایک وقت میں ضروری تھیں، مگر اب شام کو دنیا کے سامنے کچھ خاص دکھانے کا وقت ہے۔"
ردعمل:
پابندیاں ہٹائے جانے کے اعلان کے بعد شام کے کئی شہروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، خاص طور پر:
حمص
لطاکیہ
شہری سڑکوں پر نکل آئے، سعودی اور شامی پرچم لہراتے رہے، اور آتش بازی کی گئی۔عوام نے نعرے لگا کر امریکہ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔
تجزیہ:
ٹرمپ کا یہ اقدام خطے میں نئے جیوپولیٹیکل اتحادوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔سعودی عرب، ترکی اور امریکہ کی مشاورت میں شام کی طرف نرم رویہ ایک نئی سفارتی پالیسی کی علامت ہو سکتی ہے۔یہ فیصلہ شام میں نئی حکومت کے قیام اور متوقع استحکام کی امید پر مبنی ہے۔