سمن آباد میں کرنٹ لگنے سے واپڈا ملازم جاں بحق، مرمت کے دوران افسوسناک حادثہ

سمن آباد میں کرنٹ لگنے سے واپڈا ملازم جاں بحق، مرمت کے دوران افسوسناک حادثہ

لاہور کے علاقے سمن آباد میں بجلی کے ٹرانسفارمر کی مرمت کے دوران کرنٹ لگنے سے واپڈا کا ملازم جاں بحق ہو گیا۔

 حادثہ سمن آباد کے پہلے گول چکر کے قریب پیش آیا، جس کے بعد علاقہ مکینوں اور ریسکیو اداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

 حادثے کی تفصیل
ریسکیو ذرائع کے مطابق:

متوفی کی شناخت 40 سالہ خرم کے نام سے ہوئی ہے
وہ واپڈا کا مستقل ملازم تھا
حادثہ اس وقت پیش آیا جب وہ ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے کھمبے پر چڑھا
اچانک کرنٹ لگنے سے وہ شدید زخمی ہو گیا اور موقع پر ہی دم توڑ گیا
 ریسکیو اور پولیس کی کارروائی
حادثے کی اطلاع ملتے ہی:

ریسکیو 1122 کی ٹیم موقع پر پہنچی
خرم کی میت کو واپڈا اسپتال منتقل کر دیا گیا
پولیس نے موقع کا معائنہ کیا اور ابتدائی رپورٹ تیار کی جا رہی ہے
 اہل خانہ اور ساتھیوں کا غم
خرم کی موت کی خبر سن کر:

اہل خانہ، عزیز و اقارب اور محلہ داروں میں گہرے غم کی لہر دوڑ گئی
واپڈا کے ساتھی ملازمین نے بھی واقعے پر افسوس اور غم کا اظہار کیا
بعض ساتھیوں نے الزام عائد کیا کہ سیفٹی اقدامات کی عدم موجودگی اس افسوسناک واقعے کا باعث بنی
 سیفٹی سسٹم پر سوالیہ نشان
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ:

بجلی کے محکمے میں سیفٹی کٹس، پروٹوکولز اور حفاظتی تربیت پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کے باعث
محنت کش ملازمین کی جانیں خطرے میں رہتی ہیں
مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ واپڈا حکام:

واقعے کی مکمل تحقیقات کریں
خرم کے اہل خانہ کو معاوضہ اور شہید کا درجہ دیا جائے
آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے
 نتیجہ: ایک اور محنت کش، بجلی کے نظام کی نذر
خرم کی ناگہانی موت نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ ہمارے سسٹمز میں محنت کشوں کی جانوں کا تحفظ ابھی تک ترجیح نہیں بن سکا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ واپڈا اور دیگر ادارے اپنے فیلڈ اسٹاف کی جانوں کو سنجیدگی سے لیں اور ہر مرمت، تنصیب اور کام سے پہلے سیفٹی کلچر کو لازم قرار دیں۔