گزشتہ سال لاہور میں خودکشی کے 116 واقعات، تشویشناک تفصیلی رپورٹ سامنے آ گئی

گزشتہ سال لاہور میں خودکشی کے 116 واقعات، تشویشناک تفصیلی رپورٹ سامنے آ گئی

لاہور میں سال 2025 کے دوران خودکشی کے واقعات نے تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی ہے۔

 ایدھی فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق مختلف وجوہات کے باعث مجموعی طور پر 116 افراد نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا، جن میں 83 مرد اور 33 خواتین شامل تھیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مردوں میں خودکشی کی سب سے بڑی وجہ معاشی دباؤ، غربت اور بے روزگاری رہی، جبکہ خواتین میں گھریلو تنازعات، محبت میں ناکامی اور خاندانی جھگڑے اہم محرکات بنے۔اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں خودکشی کے 12 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 9 مرد اور 3 خواتین شامل تھیں۔ فروری میں 11 افراد نے خودکشی کی جن میں 7 مرد اور 4 خواتین تھیں۔ مارچ میں 6 واقعات سامنے آئے جن میں 4 مرد اور 2 خواتین جان سے گئیں۔اپریل کے دوران 12 افراد نے خودکشی کی، جن میں 8 مرد اور 4 خواتین شامل تھیں، جبکہ مئی میں یہ تعداد سب سے زیادہ رہی اور 17 افراد نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا، جن میں 13 مرد اور 4 خواتین تھیں۔جون میں خودکشی کے 8 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 3 مرد اور 5 خواتین شامل تھیں۔

جولائی میں 11 افراد نے خودکشی کی، جن میں 7 مرد اور 4 خواتین شامل تھیں۔ اگست میں 12 افراد جان سے گئے جن میں 9 مرد اور 3 خواتین تھیں۔ستمبر کے دوران 6 افراد نے خودکشی کی جن میں 5 مرد اور ایک خاتون شامل تھی۔ اکتوبر میں 8 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 7 مرد اور ایک خاتون شامل تھی۔ نومبر اور دسمبر میں بالترتیب 7، 7 خودکشی کے واقعات سامنے آئے، جن میں اکثریت مردوں کی رہی۔ایدھی ترجمان کے مطابق زیادہ تر واقعات میں گھریلو جھگڑے، مالی مشکلات، ذاتی دباؤ اور ذہنی تناؤ بنیادی عوامل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ذہنی صحت، معاشی معاونت اور خاندانی مشاورت کے مؤثر نظام کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔