سال 2024 کے آغاز میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقوں میں حملوں کا سلسلہ جاری رہا، جس میں جبالیہ اور بوریج کے علاقوں میں بمباری کی گئی۔
ان حملوں میں کم از کم 10 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں زیادہ تر بچے شامل ہیں۔ جبالیہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں تروش خاندان کے گھر پر بمباری کی گئی، جس سے 7 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ان میں بچے شامل تھے، جو اسرائیلی بمباری کا شکار ہوئے۔اس کے علاوہ، غزہ کے ہسپتال بھی اسرائیلی حملوں کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی رپورٹ میں اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، کیونکہ ان حملوں میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی نشاندہی کی گئی ہے۔نئے سال کی آمد کے بعد غزہ میں خون جما دینے والی سردی اور شدید بارشوں نے بے گھر فلسطینیوں کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
وہ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اور ان کے خیموں میں پانی بھر گیا ہے۔ اس شدید ٹھنڈ سے 6 بچوں سمیت 7 فلسطینی شہید ہو گئے۔اسرائیلی بمباری کی وجہ سے پناہ گزین کیمپوں اور ہسپتالوں پر حملے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں 24 گھنٹوں میں 40 فلسطینی شہید ہوئے۔ اب تک اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 45 ہزار 541 ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال فلسطینی عوام کے لیے ایک شدید انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں عالمی برادری کی جانب سے مزید مداخلت کی ضرورت ہے۔