گریٹر مانچسٹر پولیس نے ایک مذبح خانے پر کارروائی کرتے ہوئے ایک شخص کو بازیاب کرا لیا جو انتہائی غیر انسانی اور غیر موزوں حالات میں رہنے پر مجبور تھا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ شخص سے طویل اوقات تک کام لیا جاتا تھا، جبکہ اسے بہت کم اجرت دی جاتی تھی یا بالکل بھی معاوضہ نہیں دیا جاتا تھا۔ہوم آفس کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں جدید غلامی کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ان میں سے تقریباً ایک چوتھائی متاثرہ افراد برطانوی شہری ہیں، جبکہ دیگر زیادہ تر البانیہ اور ویتنام سے تعلق رکھتے ہیں۔چھاپے کے دوران پولیس نے انسانی اسمگلنگ اور جبری مشقت کے الزامات میں ایک مرد اور ایک خاتون کو گرفتار کر لیا، جبکہ ایک البانوی شہری فرار ہونے کی کوشش کے دوران پکڑا گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں جبری مشقت اور انسانی اسمگلنگ کے زیادہ تر واقعات مذبح خانوں، فارموں، اور ریسٹورنٹس میں دیکھے جاتے ہیں، جہاں کمزور مزدوروں کا استحصال کرنا آسان ہوتا ہے۔یہ واقعہ ملک میں جدید غلامی کے بڑھتے ہوئے خطرے اور متاثرہ افراد کو فوری تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔