سعودی عرب نے نیتن یاہو کے نام نہاد "گریٹر اسرائیل" منصوبے کو سختی سے رد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
یہ بیان سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے دوران جاری کیا گیا، جس میں غزہ کی تازہ ترین صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پاکستان کی نمائندگی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اجلاس میں کی۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے نیتن یاہو کے توسیع پسندانہ بیانات کی مذمت کی اور کہا کہ فلسطین کا واحد حل دو ریاستی حل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی غزہ میں یکطرفہ کارروائیاں اور حملے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔فیصل بن فرحان نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے توسیع پسندانہ نظریات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "گریٹر اسرائیل" کا تصور کسی صورت قبول نہیں۔ اس کے علاوہ، اسرائیل نے مغربی کنارے میں 3 ہزار سے زائد یہودی بستیوں کے قیام کا منصوبہ منظوری دی ہے، جس سے یروشلم اور مغربی کنارے کے درمیان فاصلے بڑھ جائیں گے۔
اس منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ فلسطینی ریاست کے تصور کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔اقوام متحدہ، یورپی یونین اور دیگر عالمی تنظیموں نے اس منصوبے کی مذمت کی ہے، اور اسے خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ عالمی سطح پر اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور فلسطین کے حق میں حمایت جاری ہے۔