اسرائیلی جیل نہیں، مذبح خانہ تھا: رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کے انکشافات

اسرائیلی جیل نہیں، مذبح خانہ تھا: رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کے انکشافات

غزہ امن معاہدے کے بعد رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں نے اسرائیلی جیلوں کے انسانیت سوز حالات بے نقاب کر دیے۔

عرب میڈیا کے مطابق رہائی پانے والے قیدیوں نے بتایا کہ اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا تھا۔قیدی سعید شبیر نے کہا کہ "میں نے کئی دنوں سے سورج نہیں دیکھا تھا، اب میرے ہاتھ آزاد ہیں، اور میں آزادی کی قدر جانتا ہوں۔"ایک اور قیدی عبداللہ ابو رافع نے بتایا کہ "ہم کسی جیل میں نہیں بلکہ مذبح خانے میں بند تھے جس کا نام ’اوفر جیل‘ رکھا گیا ہے، وہاں نہ گدے تھے، نہ کھانا، نہ کوئی سہولت۔"

قیدی یاسر ابو عمارہ کے مطابق، "ہمیں صرف مار کھلائی جاتی تھی، کھانے کے لیے کچھ نہیں دیا جاتا تھا۔ میں نے چار دن سے کچھ نہیں کھایا۔"رہائی پانے والے قیدیوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں پر ہونے والے ظلم کی تحقیقات کرائے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے۔