وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاق کے ذمے ہمارے 3 ہزار ارب روپے سے زیادہ رقم ہے، مگر ہمارے صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔
پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لیے آئندہ بھی متعدد اقدامات کریں گے، جن میں ضم اضلاع میں خصوصی افراد کے لیے بسوں کا بندوبست اور بسیس و ویل چیئر کی فراہمی شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیڈر شوکت خانم اسپتال بنا رہے تھے، جس میں پوری پاکستانی قوم نے اپنی مدد فراہم کی۔ آج یہ اسپتال کینسر کے مریضوں کا علاج کر رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ وفاقی حکومت کے پاس ہمارے 3 ہزار ارب سے زیادہ رقم ہے، لیکن ہمارے صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ ہم اپنی وسائل سے غریب عوام کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 18 سال تک کے یتیم بچوں کو مالی امداد فراہم کی جائے گی، اور احساس امید کارڈ کے تحت یتیم بچوں کو ماہانہ 5 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔