کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے سندھ کے میڈیکل داخلہ ٹیسٹ میں کراچی کے طلبہ کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ میڈیکل داخلہ ٹیسٹ کے پورے نظام کی نگرانی کی جائے۔
ادارہ نور حق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی کے طلبہ کو ہر تعلیمی امتحان میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ حکومتیں ملک کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے طلبہ اس وقت بدترین صورتحال سے دوچار ہیں اور سندھ کے سرکاری و نجی میڈیکل کالجز کے داخلہ ٹیسٹ کے نتائج پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے طلبہ کے مقابلے میں اندرون سندھ کے بعض اضلاع کے طلبہ کی کامیابی کا تناسب زیادہ رہا، جس کے باعث طلبہ میں بے چینی پائی جاتی ہے اور انہیں تعلیم سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ لاہور میں 11 ہزار 480 طلبہ کے لیے 6 امتحانی مراکز جبکہ پشاور میں 16 ہزار طلبہ کے لیے 19 مراکز قائم کیے گئے، لیکن کراچی کے تقریباً 11 ہزار طلبہ کے لیے صرف 2 امتحانی مراکز بنائے گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کراچی میں ضلعی سطح پر امتحانی مراکز قائم کیوں نہیں کیے جاسکتے تھے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت سندھ نے تعلیم کے نظام کو تباہ کرنے کا عمل سنبھال رکھا ہے۔ ان کے مطابق میٹرک اور انٹر بورڈز کے نظام کو متاثر کرکے مختلف ٹیسٹنگ اتھارٹیز قائم کی گئی ہیں، جس سے تعلیمی نظام میں شفافیت کے حوالے سے سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ تھرپارکر جیسے پسماندہ ضلع کے طلبہ نے میڈیکل داخلہ ٹیسٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جبکہ کراچی کے مقابلے میں اندرون سندھ کے بعض اضلاع کے طلبہ کی کامیابی کا تناسب زیادہ رہا۔انہوں نے این ای ڈی یونیورسٹی کے ٹیسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اندرون سندھ کے طلبہ 80 سے زائد نمبر حاصل کرنے کے باوجود کم تعداد میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق این ای ڈی کے ٹیسٹ میں اندرون سندھ کے طلبہ کی کامیابی کا تناسب تقریباً 24 سے 26 فیصد جبکہ کراچی بورڈ کے طلبہ کا تناسب تقریباً 66 فیصد رہا۔منعم ظفر خان نے کہا کہ تعلیم سب کے لیے ہونی چاہیے اور اسے چند لوگوں تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کے طلبہ کو امتحانات کے دوران مساوی سہولیات فراہم کی جائیں اور میڈیکل داخلہ ٹیسٹ کے نظام میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔