سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ مغربی بارڈر پاکستان کے لیے ہمیشہ حساس رہا ہے، بھارت طالبان کی مخالفت کرتا رہا ہے مگر اب ان سے ملاقاتیں کر رہا ہے۔
انہوں نے بھارت پر فیک نیوز کے ذریعے جعلی بیانیہ بنانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ پاکستان نے سفارتی محاذ پر بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ بھارت کے اندر بھی اس کی حکومت کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور دریائے سندھ کو نلکے کی طرح بند کرنا ممکن نہیں۔شیری رحمان نے کہا کہ گزشتہ دو تین سال سے ملکی معاشی بہتری پر توجہ دی گئی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے، جس سے دنیا پاکستان کو نئے انداز میں دیکھ رہی ہے۔نائب صدر پیپلز پارٹی نے وزیرِ اعظم کی طرف سے بھارت کے جھوٹے بیانیے کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کا خیر مقدم کیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں سفارتی محاذ پر بلاول بھٹو زرداری بہترین انتخاب ہیں، جن کی حکمت عملی نئی تاریخ رقم کر رہی ہے۔ بلاول بھٹو کا لہجہ اور دلیل دشمن کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔شیری رحمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سات ٹیمیں بھیجنا بلاول بھٹو کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم کا شکریہ ادا کیا کہ بلاول بھٹو اور کمیٹی کے دیگر ممبران پر اعتماد کیا گیا۔