مجاز اتھارٹی سے اجازت کے بغیر دوسری شادی ممنوع قرار

مجاز اتھارٹی سے اجازت کے بغیر دوسری شادی ممنوع قرار

پشاور کے سابق ایف آر علاقے میں شادی رجسٹریشن کے عمل اور قواعد و ضوابط کے حوالے سے اہم ہدایات پر مشتمل ہے۔

 اس کا مقصد شادی کے عمل کو شفاف اور قانونی بنانے کے ساتھ ساتھ کم عمری کی شادیوں کو روکنا اور قانونی تقاضوں کی سختی سے پیروی یقینی بنانا ہے۔ درج ذیل میں اس مراسلے کی تفصیلی وضاحت فراہم کی گئی ہے:

دوسری شادی کی اجازت:

اب دوسری شادی کے لیے مجاز اتھارٹی سے اجازت نامہ لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔یہ قدم شادی کی رجسٹریشن اور قانونی تقاضوں کی پاسداری کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ ناجائز اور غیرقانونی شادیوں سے بچا جا سکے۔
شادی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے لیے ہدایات:

تمام سرکاری افسران کو سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ قواعد و ضوابط کی پابندی کریں۔کم عمر لڑکی یا لڑکے کی شادی کی درخواست سے قبل، نادرا کے رجسٹریشن فارم، اسکول سرٹیفکیٹ یا پیدائشی سرٹیفکیٹ کی تصدیق ضروری ہے۔عمر کی تصدیق کے بغیر درخواست کو منظور نہیں کیا جائے گا، تاکہ کم عمری کی شادیوں کو روکا جا سکے۔
طلاق اور خلع کی تصدیق:

طلاق کی صورت میں، طلاق نامہ اور خلع کے دستاویزات کی لازمی تصدیق ضروری ہے۔یہ عمل شادی کے ریکارڈ کو درست اور قانونی بناتا ہے۔
بیوہ کی دوسری شادی:

بیوہ کی دوسری شادی کے لیے، شوہر کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ منسلک کرنا لازم ہے۔اس سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ شادی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔
شادی کا ریکارڈ اور دستاویزات:

تمام متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام شادیوں کو کونسل کے سرکاری شادی رجسٹر میں درج کریں۔اس کے علاوہ، سالانہ شادی رجسٹریشن ریٹرن کے ساتھ تمام متعلقہ دستاویزات منسلک کرنا بھی لازم ہے۔
آن لائن ریکارڈنگ اور بروقت عمل:

شادی رجسٹریشن کا ریکارڈ فوری طور پر آن لائن ایم آئی ایس سسٹم میں اپلوڈ کیا جائے گا۔کسی بھی غیر ضروری تاخیر سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔شادی رجسٹریشن فائلز کو بروقت نمٹانے کا بھی حکم دیا گیا ہے تاکہ ڈیٹا بروقت اور درست رہے۔
عوامی آگاہی اور بریفنگ:

ویلیج سیکرٹریز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ چیئرمینز، کونسل کے ممبران اور نکاح خوانوں کو متعلقہ قواعد و ضوابط سے آگاہ کریں اور بریفنگ دیں، تاکہ عمل کی شفافیت اور قانونی عملداری یقینی بنائی جا سکے۔یہ ہدایات شادی کے عمل کو منظم، قانونی اور شفاف بنانے کے لیے اہم ہیں، اور کم عمری کی شادیوں کو روکنے کے ساتھ ساتھ رجسٹریشن کے عمل کو بہتر اور آسان بنانے پر زور دیا گیا ہے۔