کھرڑیانوالہ : ڈولفن اہلکاروں کا تشدد، شہری ہلاک ،چار گرفتار

یوسف پر چوری کا الزام ، اہلکاروں نے حبس بے جا میں رکھ کر تشدد کیا
 اہلکار تھانے لے گئے جہاں سے تھانیدار نے رہا کر دیا ،قتل کا مقدمہ 
کھرڑیانوالہ (خصوصی رپورٹ)کھرڑیانوالہ میں ڈولفن پولیس کے اہلکاروں نے 45 سالہ محمد یوسف کو مبینہ تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ چک نمبر 211 R.B مجاوراں میں پیش آیا، جہاں ڈولفن پولیس اہلکار سفیان، رضا ساجد (ٹیم لیڈر)اور دو نامعلوم اہلکاروں نیدکان مالک کامران، ابو بکر اور آیت اللہ اکاؤنٹنٹ کے کہنے پر محمد یوسف پر چوری کا جھوٹا الزام لگایا۔مظلوم کو اغوا کر کے ایک الگ کمرے میں حبس بے جا میں رکھا گیا اور زبردستی چوری تسلیم کرنے اور کتے کی آوازیں نکالنے پر مجبور کیا گیا۔انکار کرنے پر اسے ڈنڈوں، مکوں اور لاتوں سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پچاس ہزار روپے رشوت دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔اہلکار محمد یوسف کو تھانہ کھرڑیانوالہ لے آئے، جہاں اے ایس آئی شبیر احمد نے اسے بے گناہ قرار دے کر رہا کیا۔ تشدد کیباعث محمد یوسف کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن زخموں کی شدت کے سبب دم توڑ گیا۔ مقتول چار بچوں کا باپ تھا۔پولیس نے مقتول کے بھائی محمد عباس کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کر کے چار ڈولفن اہلکاروں کو حراست میں لے لیا جبکہ دکان کے مالک سمیت 3 دیگر افراد کیخلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا۔ واقعہ کے بعد مقتول کے ورثا اور گاؤں 211 R.B مجاوراں کے رہائشی بڑی تعداد میں تھانہ کھرڑیانوالہ میں جمع ہو گئے اور احتجاج کیا۔