کراچی کی 5 ڈسپنسریاں 24 گھنٹے فعال اسپتالوں میں تبدیل ہوں گی، پہلے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

کراچی کی 5 ڈسپنسریاں 24 گھنٹے فعال اسپتالوں میں تبدیل ہوں گی، پہلے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

کراچی میں شہریوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے وفاقی حکومت نے شہر کی پانچ ڈسپنسریوں کو 24 گھنٹے فعال اسپتالوں میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔

 اس سلسلے میں جیکب لائن کی گورنمنٹ ڈسپنسری کی توسیع کے پہلے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے فیڈرل کمیونٹی ہیلتھ اینڈ پریونشن سروس سینٹر منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کراچی کے صحت کے شعبے کے لیے ایک اہم دن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ڈسپنسری پہلے صبح 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک محدود سہولیات کے ساتھ کام کرتی تھی، تاہم اب اسے جدید طبی سہولیات سے آراستہ 24 گھنٹے فعال اسپتال میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔مصطفیٰ کمال کے مطابق یہ اسپتال 30 بستروں پر مشتمل ہوگا، جہاں بنیادی طبی سہولیات، ایمرجنسی سروسز اور دیگر ضروری علاج کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے غیر فعال ڈسپنسریوں کو جدید اسپتالوں میں تبدیل کرنے پر کام جاری ہے، جن میں سول ڈسپنسری، ایئرپورٹ اور گارڈن کے صحت مراکز بھی شامل ہیں۔وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ منصوبے کے تحت کراچی کی 5 ڈسپنسریوں کو 30، 30 بستروں پر مشتمل جدید اسپتالوں میں تبدیل کیا جائے گا، جس کے لیے 2 ارب 86 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جیکب لائن کی ڈسپنسری آئندہ تین ماہ میں مکمل طور پر 24 گھنٹے فعال اسپتال بن جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اسپتالوں کی تعمیر اور صحت سے متعلق بیشتر اختیارات صوبائی حکومتوں کو منتقل ہو چکے ہیں، تاہم وفاق اپنی ڈسپنسریوں کو اپ گریڈ کر کے عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سال قبل یہ ڈسپنسری غیر فعال تھی، جبکہ مستقبل میں کراچی کے دیگر علاقوں میں بھی وفاق کے زیر انتظام ڈسپنسریوں کو فعال بنایا جائے گا۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ وہ کورنگی، لیاقت آباد اور دیگر گنجان آباد علاقوں میں اسی نوعیت کے منصوبے شروع نہیں کر سکتے، کیونکہ ان علاقوں میں صحت کے منصوبے شروع کرنے کا اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہے۔انہوں نے ملک میں صاف پانی اور سیوریج کے مسائل پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیوریج کا پانی ٹریٹ کیے بغیر خارج کیا جاتا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق 68 فیصد بیماریاں آلودہ پانی کی وجہ سے پھیلتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی 55 فیصد پاکستانیوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، جبکہ عوام کی بڑی تعداد بنیادی تعلیم اور صحت کی سہولیات سے محروم ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے مزید کہا کہ وفاق سے صوبوں کو بڑے پیمانے پر مالی وسائل فراہم کیے جاتے ہیں، تاہم ان وسائل کے ثمرات عوام تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ رہے، جس کی ایک بڑی وجہ بدانتظامی ہے۔