راولپنڈی میں پانی گھروں اور دکانوں میں داخل،مری میں لینڈ سلائیڈنگ ، فیروزوالہ میں بدستور سیلابی صورتحال
اسلام آباد،لاہور ، ( خصوص رپورٹ )ملک کے مختلف شہروں میں مون سون کی طوفانی بارشیں جاری، نظام زندگی درہم برہم، آسمانی بجلی گرنے اورپانی میں ڈوبنے کے واقعات میں کمسن بچے سمیت 3افراد جاں بحق ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق اسلام آبادمیں مون سون کی وقفہ وقفہ سے جاری طوفانی بارشوں نے معمولِ زندگی درہم برہم کر دیا، مری میں لینڈ سلائیڈنگ سے 4 منزلہ عمارت زمین بوس ہوگئی جبکہ جھیکا گلی، کوثر کالونی اور ڈھک کے علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متعدد مکانات خطرے کی زد میں آگئے۔ راولپنڈی کے نالہ لئی میں پانی کی سطح 10 فٹ ریکارڈ کی گئی جس کے بعد گوالمنڈی پر پری الرٹ نافذ کر دیا گیا ،مختلف علاقوں میں پچاس سے زائد گھروں ،راجہ بازار کی دکانوں میں پانی داخل ہونے سے شہریوں کو لاکھوں کا نقصان ہو گیا، علاوہ ازیں مصریال روڈ کی فرینڈز کالونی میں کھیلتے ہوئے کمسن بچہ برساتی نالے میں ڈوب گیا۔ علاوہ ازیں پختونخوا میں ایبٹ آباد شہر اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں بھی موسلادھار بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، اہم شاہراہیں زیر آب آنے سے شاہراہ ریشم،مری روڈ،پی ایم اے روڈ سمیت دیگر اہم سڑکوں پر ٹریفک جام ہونے سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں جبکہ ضلع صوابی میں ٹوپی کازوے کا اپروچ روڈ ایک بار پھر سیلابی ریلے میں آ کر بہہ گیا جس کے نتیجے میں ٹوپی، کوٹھا، انبار اور ملحقہ علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا،ہر قسم کی ٹریفک معطل ہونے سے ہزاروں شہری شدید مشکلات کا شکار ہو کر رہ گئے۔ گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش پنجاب میں راولپنڈی (کچہری 103، شمس آباد 73)، مری 99، اٹک 80، اسلام آباد (سیدپور 68، زیرو پوائنٹ 62)، سیالکوٹ سٹی 67، لاہور 46، نارووال 42، سرگودھا ، گوجرانوالہ ، شیخوپورہ 3، منگلا، جہلم ، اوکاڑہ ، قصور 1،پختونخوا میں سیدو شریف 42، پشاور 21، آزادکشمیر میں بالاکوٹ 6، گڑھی دوپٹہ میں 44 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تاہم دیگر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا ۔ ادھر تحصیل شکرگڑھ کے علاقہ چک امرو میں20 سالہ نوجوان نالہ بسنتر میں ڈوب گیا ، آخری اطلاعات تک لاش نہ مل سکی جبکہ وہاڑی کے نواحی گا ئوں 50 ڈبلیو بی میں شدید بارش کے دوران28 سالہ نوجوان عمران بلوچ گھر کی چھت پر موجود تھا کہ اچانک آسمانی بجلی اس پر آن گری اوروہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ دوسری طرف پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)نے فیکٹ شیٹ جاری کرتے بتایا ہے کہ رواں مون سون کے دوران مختلف حادثات میں45 افراد جاں بحق اور279 زخمی ہوئے،پنجاب کے بیشتر دریا ئوں چناب ،جہلم ،راوی اور ستلج میں پانی کا بہا ئو نارمل ہے تاہم وزیر آباد نالہ پلکھو میں درمیانے،نالہ بسنتر میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ جبکہ محکمہ موسمیات نے انتباہ جاری کیا ہے کہ آج یکم اگست کو اسلام آباد،راولپنڈی،خطہ پوٹھوہار، پشاور، نوشہرہ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لاہور،فیصل آباد اور سندھ کے کئی علاقوں میں موسلادھار بارشوں سے نشیبی علاقے زیر آب آنے ،بالائی خیبر پختونخوا ، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ،ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ دریں اثناء ضلع شیخوپورہ کی تحصیل فیروزوالا میں سیلابی صورتحال برقرار ہے اورکئی آبادیاں زیر آب ہیں ،متاثرہ علاقوں میں بعض مقامات تک رسائی کیلئے کشتی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کئی لوگوں نے گھر کی چھتوں پر عارضی پناہ لے رکھی ہے۔ الخدمت فا ئونڈیشن سینٹرل پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری زبیر احمد کے مطابق نارنگ منڈی سے فیروزوالا ، کالا شاہ کاکو تک تقریباً 150 سے زائد دیہات زیرِ آب آئے اور ہزاروں خاندان متاثر ہوئے ،ہم روزانہ ایک ہزار سے 1500 افراد تک کھانا پہنچا رہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں حکومتی امداد ان تک نہیں پہنچ سکی۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)کے مطابق حالیہ سیلاب سے کم از کم ایک ہزار 215 مکانات متاثر ہوئے جن میں 1 ہزار 75 فیروزوالا جبکہ 140 مریدکے میں واقع ہیں،43 ہزار 188 ایکڑ اراضی زیرِ آب آئی ،26 جولائی تک ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر چکی،55 اموات پختونخوا ، 36 پنجاب میں ہوئیں۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ نے 5 اگست تک پنجاب سمیت ملک کے مختلف حصوں میں وسیع پیمانے پر بارشوں اور آندھی طوفان کی پیش گوئی کر رکھی ہے۔