جب سے ملک نئے پاکستان سے پرانے پاکستان کی طرف گیا، تباہی کا سلسلہ شروع ہوگیا‘بتایا جائے ملک کو ’’ڈیفالٹ موڈ‘‘ پر کون لے کر گیا
انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام کا مقصد تحریک انصاف کو کمزور کرنا ہے، محسن نقوی یا بلاول بھٹو سے میرا کوئی رابطہ نہیں ہوا:میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد ( آن لائن ) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے بشریٰ بی بی کو منگل کی شب آنکھوں کے طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں سے چیک اپ کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بھی بعد ازاں اس منتقلی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی یا پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ان کا کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوا۔انہوں نے موجودہ نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بتایا جانا چاہیے کہ ملک کو "ڈیفالٹ موڈ" پر کون لے کر گیا۔ ان کے مطابق جب سے ملک "نئے پاکستان" سے "پرانے پاکستان" کی طرف گیا، تب سے تباہی کا سلسلہ شروع ہوا، عدلیہ کمزور ہوئی، معیشت خراب ہوئی اور عوام کا نظام پر اعتماد ختم ہو گیا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد مزید 90 ججز تعینات کیے گئے، جبکہ اس سے قبل پورے ملک میں 98 ججز تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں ججز تعینات کرنے کے باوجود عوام کو بروقت انصاف فراہم نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث عدلیہ پر اعتماد متاثر ہوا ہے۔انہوں نے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق خبروں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد پاکستان تحریک انصاف کو کمزور کرنا ہے، تاہم ان کے بقول عمران خان کو ملک بھر میں 90 فیصد سے زائد عوامی حمایت حاصل ہے اور اگر سو نئے صوبے بھی بنا دیے جائیں تو بھی پی ٹی آئی ہی کامیاب ہوگی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ موجودہ حکمران جماعتوں کے پاس آئینی ترامیم کا عوامی مینڈیٹ نہیں ہے اور قومی اتفاقِ رائے کے بغیر آئینی ترامیم نہیں ہونی چاہئیں