مودی کی غیر مؤثر پالیسی، آبنائے ہرمز میں بھارت کے 18 جہاز پھنس گئے

مودی کی غیر مؤثر پالیسی، آبنائے ہرمز میں بھارت کے 18 جہاز پھنس گئے

بھارت میں توانائی بحران اب شدید سطح تک پہنچ چکا ہے اور اس کے پیچھے بنیادی طور پر خطے کی جاری جنگ اور مودی حکومت کی مبینہ غیر مؤثر پالیسیز کو قرار دیا جا رہا ہے۔

 این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کو ایندھن فراہم کرنے والے 10 غیر ملکی پرچم والے جہاز خلیج فارس میں پھنس چکے ہیں، جبکہ بھارت کے اپنے 18 پرچم والے جہاز بھی آبنائے ہرمز میں محصور ہیں۔ یہ جہاز ایل پی جی، خام تیل اور ایل این جی لے کر جا رہے تھے۔ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ صرف وہی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرسکتے ہیں جو ایران کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں ہوں، جس نے عالمی تجارتی راستوں کو جزوی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بھارت میں ایندھن کی قلت اور توانائی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے، خاص طور پر مودی حکومت کی اسرائیل نواز اور کمزور توانائی حکمت عملی کے باعث۔

اس بحران کے اثرات نہ صرف بھارت کی اندرونی توانائی مارکیٹ پر پڑ رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو بھارت میں ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور صنعتوں میں توانائی کی قلت کا خطرہ ہے، جس سے عام صارفین اور کاروباری طبقے دونوں متاثر ہوں گے۔