افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی حمایت اور سرپرستی پھر بے نقاب

افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی حمایت اور سرپرستی پھر بے نقاب

بین الاقوامی سطح پر افغان طالبان رجیم اور دہشت گرد گروہ فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے تعلقات کو خطے کے لیے سنگین سکیورٹی خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

آسٹریلوی جریدے دی کنورسیشن نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان رجیم نے افغانستان پر قبضے کے بعد شر پسند مسلح جتھوں کو حکومتی فورسز کے طور پر شامل کر لیا ہے۔ جریدے کے مطابق یہ گروہ نہ صرف افغانستان میں فعال ہے بلکہ پاکستان پر حملے کرنے کے لیے بھی محفوظ پناہ گاہیں حاصل کر چکا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت اپنے علاقائی اور جغرافیائی مفادات کے لیے طالبان رجیم کی پشت پناہی کر رہا ہے، جبکہ طالبان نے فتنہ الخوارج کو پاکستان پر حملوں کی اجازت دے رکھی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان اپنے بھارتی آقاوں کی سرپرستی میں دہشت گرد تنظیموں کو سہولت فراہم کر کے اپنا ناجائز تسلط قائم رکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان نے متعدد مواقع پر عالمی برادری کو افغان سرزمین سے دہشت گردی کے ثبوت پیش کیے ہیں، جنہیں بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے۔تحقیقاتی رپورٹ اور ماہرین کے مطابق، طالبان اور فتنہ الخوارج کا یہ گٹھ جوڑ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے سیکیورٹی چیلنج بن چکا ہے، اور اس کے نتیجے میں علاقائی امن و استحکام خطرے میں ہے۔