امریکہ اور اسرائیل فوری جنگ روکیں پاکستان ‘ چین کا مشترکہ اعلامیہ
تمام فریق طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کریں ‘ اختلافات کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے‘ ایران اور خلیجی ریاستوں کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے
خطے میں دیرپا امن اسی صورت ممکن ہے جب تمام ممالک کے جائز سلامتی مفادات کو تسلیم کیا جائے‘تجارتی جہازوں کو محفوظ اور بروقت راستہ فراہم کیا جائے تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی رسد متاثر نہ ہو:اعلامیہ
پاکستان ،چین ایران سمیت علاقائی امور پر یکساں موقف رکھتے ہیں،آبنائے ہرمز میں چینی جہازوں کو راستہ دینے پر ایران کے حکام کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہیں:چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا بیان
اسلام آباد‘بیجنگ( آن لائن‘آئی این پی )پاکستان اور چین نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امن و استحکام کیلئے پانچ نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ یہ اعلامیہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان اہم ملاقات کے بعد جاری کیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے خلیجی خطے میں فوری جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور تنازع کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کا مطالبہ کیا۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا تمام فریق طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کریں اور اختلافات کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ اعلامیے میں ایران اور خلیجی ریاستوں کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا گیا۔ پاکستان اور چین نے واضح کیا کہ خطے میں دیرپا امن اسی صورت ممکن ہے جب تمام ممالک کے جائز سلامتی مفادات کو تسلیم کیا جائے۔دونوں ممالک نے متاثرہ علاقوں تک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فوری اور بلا رکاوٹ فراہمی کا مطالبہ بھی کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ شہری آبادی، اسپتالوں، پانی، بجلی اور دیگر بنیادی تنصیبات کے ساتھ ساتھ غیر فوجی اہداف پر حملے فوری طور پر بند کیے جائیں۔پاکستان اور چین نے جوہری تنصیبات، توانائی کے منصوبوں، پانی اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ بین الاقوامی انسانی قانون اور جنگی ضوابط کی مکمل پاسداری کی جائے۔مشترکہ اعلامیے میں بحر ہرمز کی اہمیت پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ آبی گزرگاہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم ہے۔ دونوں ممالک نے مطالبہ کیا کہ بحر ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں اور ان کے عملے کی حفاظت یقینی بنائی جائے اور تجارتی جہازوں کی معمول کی نقل و حرکت فوری بحال کی جائے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ تجارتی جہازوں کو محفوظ اور بروقت راستہ فراہم کیا جائے تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی رسد متاثر نہ ہو۔ پاکستان اور چین نے اقوام متحدہ کے کردار، حقیقی کثیرالجہتی نظام اور عالمی قوانین کی بنیاد پر مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کیلئے جامع فریم ورک کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔دریں اثناء چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا دورہ چین انتہائی اہم ہے، ایران سمیت علاقائی امور پر یکساں موقف رکھتے ہیں۔چینی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تین چینی جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرے ہیں، جہازوں کو راستہ دینے پر ایران حکام کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ جنگ کے دوران تاریخی مقامات کو پہنچنے والے نقصان پر گہرا دکھ ہے، امریکا اور اسرائیل فوجی کارروائیاں روکیں اور فوری جنگ بندی کریں، پانی کے پلانٹس اور جوہری ری ایکٹرز پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔چین نے واضح کیا کہ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے ی اپیل کرتے ہیں، چین خطے میں امن کی بحالی کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، پاکستان اور چین ایران سمیت علاقائی امور پر یکساں مقف رکھتے ہیں، دونوں ممالک جنگ کو روکنے اور امن کے فروغ کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔