پٹرولیم مصنوعات کی قلت نہیں‘سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کرنیوالوں کیخلا ف سخت کارروائی کی جائے شہباز شریف

حکومت نے کم آمدنی والے طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے اہم اقدامات  کئے ہیں‘آئندہ بھی غریب اور متوسط طبقے کیلئے مزید سہولتیں فراہم کی جائیں گی‘مختلف اقدامات کے ذریعے عام آدمی کو 129 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا
 عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی، کفایت شعاری اور بچت کے مختلف اقدامات کئے‘عوام کو ریلیف فراہم کرنا  اولین ترجیح ہے ‘ تمام فیصلے اسی مقصد کے تحت کئے جا رہے ہیں:اجلاس میں گفتگو
اسلام آباد( آن لائن ) وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین، کفایت شعاری اور بچت کے اقدامات کے نفاذ سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں کم آمدنی والے طبقات کو موجودہ حالات کے تناظر میں مزید ریلیف فراہم کرنے کیلئے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ وہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد حتمی تجاویز جلد پیش کریں تاکہ عوامی ریلیف کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا  مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران وفاقی حکومت نے کم آمدنی والے طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے اہم اقدامات کیے ہیں اور آئندہ بھی غریب اور متوسط طبقے کیلئے مزید سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود وفاقی حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی، کفایت شعاری اور بچت کے مختلف اقدامات کے ذریعے عام آدمی کو 129 ارب روپے کا ریلیف دیا ہے۔وزیراعظم کے مطابق حکومت کے بروقت فیصلوں کی وجہ سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ضروریات پوری کرنے کیلئے مناسب ذخائر موجود ہیں اور کسی قسم کی قلت کا خدشہ نہیں۔انہوں نے کہا  عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور تمام فیصلے اسی مقصد کے تحت کیے جا رہے ہیں۔اجلاس کو کفایت شعاری اور بچت کے اقدامات پر عملدرآمد کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی طلب و رسد اور پورے سپلائی چین کی باقاعدہ نگرانی ایک جدید ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے ذریعے کی جا رہی ہے، جس سے ذخائر، ترسیل اور کھپت کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔