محتسب کا فیصلہ،مونس علوی کی اپیل پر سماعت،وکلا میں تلخ کلامی

عدالت برہم،لائسنس منسوخی کی تنبیہ، گورنر کو قانونی مدت میں فیصلے کی ہدایت 
برطرفی کا حکم معطل کیا ہے،کالعدم قرار نہیں دیا، جسٹس اقبال کلہوڑو، ریمارکس
کراچی (خصوصی رپورٹ) سندھ ہائیکورٹ میں سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کو صوبائی محتسب کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت ہوئی۔  عدالت نے گورنر سندھ کو قانونی مدت کے اندر اپیل کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئینی درخواست کی مزید سماعت 9 دسمبر تک ملتوی کردی۔ دوران سماعت وکلاء   کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس پر عدالت نے سخت اظہار برہمی کیا اور لائسنس منسوخی کی تنبیہ جاری کی۔ سندھ ہائیکورٹ میں کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی کی اپیل پر سماعت ہوئی، جس میں صوبائی محتسب کی جانب سے عہدے سے ہٹانے کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ سماعت کے دوران بیرسٹر عابد زبیری نے مؤقف اختیار کیا کہ حکم امتناع کی وجہ سے گورنر کے سامنے کارروائی میں مشکلات درپیش ہیں جبکہ گورنر سندھ کا مؤقف ہے کہ عدالت حکم دے چکی ہے تو وہ کیا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ جسٹس اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے برطرفی کا حکم معطل کیا ہے، کالعدم قرار نہیں دیا، اس لیے گورنر کے سامنے اپیل پر عدالتی حکم کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ وکیل شکایت کنندہ امتیاز رشید نے کہا کہ عدالت کو خود فیصلہ کرنا چاہیے، سی ای او کے الیکٹرک کے وکیل نے کہا کہ اپیل کا فورم گورنر ہے مگر یہاں اپیل نہیں چلنے دی جاتی اور وہاں کہا جاتا ہے کہ کیس ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے۔ جسٹس اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیے کہ آئینی درخواست پر فیصلہ گورنر کے فیصلے کے بعد کیا جائے گا، بصورت دیگر اپیل بے معنی ہو جائے گی۔ وکیل امتیاز رشید کی جانب سے عدالتی فیصلے پر اظہار تحفظات پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے فیصلوں پر تبصرہ مناسب نہیں، ایسا رویہ ناقابل قبول ہے۔ عدالت نے وکیل امتیاز رشید کو لائسنس معطل کرنے کا نوٹس جاری کرنے کا عندیہ دیا ،تاہم بیرسٹر عابد زبیری اور دیگر وکلا کی مداخلت پر عدالت نے نوٹس واپس لے لیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 9 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے گورنر سندھ کو مقررہ مدت میں اپیل کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی۔ واضح رہے کہ صوبائی محتسب نے ہراسانی کی شکایت پر مونس علوی کو عہدے سے ہٹانے اور جرمانہ عائد کرنے کا حکم دیا تھا، جسے سندھ ہائیکورٹ پہلے ہی معطل کر چکی ہے۔