گورنر نے سی ای او کے الیکٹرک کی اپیل منظور کرلی،گواہی ایک واقعے تک محدود
دستاویزی ثبوت نہیں دیئے گئے،پیغامات میں ہراسمنٹ کے شواہد نہیں،حکم نامہ
کراچی (خصوصی رپورٹ) گورنر سندھ نے کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مونس عبداللہ علوی کے خلاف ہراسانی سے متعلق صوبائی محتسب کا سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے مونس علوی کی اپیل منظور کرلی، گورنر سندھ کے دفتر سے جاری تحریری حکم نامے کے مطابق مونس عبداللہ علوی نے سابق ملازمہ مہرین عزیز خان کی شکایت کے نتیجے میں محتسب سندھ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ صوبائی محتسب نے فیصلے میں مونس علوی کو ہراسمنٹ اور ذہنی اذیت پہنچانے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے فوری عہدے سے ہٹانے اور 25 لاکھ روپے جرمانہ بطور معاوضہ ادا کرنے، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے سمیت دیگر احکامات جاری کیے تھے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ شکایت کنندہ مہرین عزیز خان نے دسمبر 2019 میں کے الیکٹرک میں چیف مارکیٹنگ اینڈ کمیونیکیشن آفیسر کے طور پر ملازمت اختیار کی اور اکتوبر 2020 میں ان کی ملازمت ختم کی گئی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ متعدد اضافی الزامات کے حق میں کوئی آزاد یا دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، نہ ای میلز، نہ واٹس ایپ پیغامات اور نہ ہی کسی آزاد گواہ کی شہادت دستیاب ہے۔ گورنر سندھ نے صوبائی محتسب کی جانب سے ایک گواہ سارہ دا ئود کے بیان پر انحصار کا بھی جائزہ لیا اور کہا کہ ان کی گواہی صرف ایک واقعے تک محدود ہے، جو جنسی ہراسمنٹ کے زمرے میں نہیں آتا۔ مزید یہ کہ دیگر مبینہ واقعات کے حوالے سے نہ تو تحریری شکایات سامنے آئیں اور نہ ہی کوئی آزاد ثبوت فراہم کیا گیا۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر گورنر سندھ نے صوبائی محتسب سندھ کا 31 جولائی 2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے مونس عبداللہ علوی کے خلاف سزائیں منسوخ کر دیں۔