اسرائیل میں حالیہ دنوں میں ایک اہم احتجاج دیکھنے میں آیا ہے جہاں 2 لاکھ سے زائد انتہائی قدامت پسند یہودیوں نے اسرائیلی فوج میں لازمی بھرتی کے قانون کے خلاف مظاہرہ کیا۔
یہ قدامت پسند یہودی گروہ، جنہیں آلٹرا آرتھوڈوکس یہودی بھی کہا جاتا ہے، اس قانون کے خلاف اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر باہر نکلے۔احتجاج کے دوران، مظاہرین نے اپنی احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے جاری رکھے، جن میں سے ایک میں انہوں نے کرین پر چڑھ کر اپنی آواز بلند کی۔ اس دوران ایک 15 سالہ نوجوان کرین سے گر کر ہلاک ہو گیا، جو واقعہ پورے ملک میں افسوس کی لہر دوڑا دیا۔انتہائی قدامت پسند یہودی گروہ کا موقف ہے کہ ان کا مذہبی فرض عبادت کرنا ہے اور وہ ہتھیار اٹھانے یا لڑائی میں شامل ہونے کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی خدمات ان کے مذہبی عقائد کے خلاف ہیں، اور وہ اس قانون کے خلاف اپنی مذہبی آزادی کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس احتجاج کو ’دعائیہ ریلی‘ کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد اسرائیلی فوج میں آلٹرا آرتھوڈوکس طبقے کی بھرتی کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ اس احتجاج میں کئی مذہبی رہنما اور کمیونٹی کے اہم افراد بھی شامل تھے، جنہوں نے اس قانون کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کیا۔یہ احتجاج اسرائیلی سیاست اور مذہب کے درمیان جاری تنازع کا ایک اہم مظہر ہے، اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مذہبی کمیونٹیاں اپنی مذہبی آزادی اور روایات کے تحفظ کے لیے کتنی حساس ہیں۔