لیاقت بلوچ، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان، نے اپنے بیان میں ایک اہم اور حساس مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔
انہوں نے اسرائیلی قیادت کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قیادت نے دنیا بھر میں یہودیوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ یہ رائے اسرائیل کے عالمی کردار پر تنقید اور اس کے اثرات کے حوالے سے ہے۔انہوں نے آسٹریلیا میں یہودیوں کی ایک تقریب پر دہشت گردانہ حملہ کی مذمت کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف سخت موقف رکھتے ہیں اور امن و سلامتی کی بحالی کے حق میں ہیں۔لیاقت بلوچ نے 16 دسمبر کے دن کو یادگار قرار دیا، کیونکہ یہ دن پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام کے لیے ایک عبرت کا دن ہے۔ انہوں نے اس دن کو دو قومی نظریہ کے دشمنوں اور ہندوستان کے آلہ کاروں کے لیے عبرت کا دن قرار دیا، کیونکہ یہ دن پاکستان کی تاریخ میں اہم ہے اور اس دن سے دونوں ملکوں کے عوام نے سیکھنے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ دشمن کون ہیں اور ان کے عزائم کیا ہیں۔
انہوں نے 21 دسمبر کو ملک بھر میں بااختیار بلدیاتی نظام کے لیے احتجاجی دھرنوں کا اعلان کیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اسلام آباد اور صوبائی حکومتیں عوام کے اقتدار کو کمزور کرنے والی پالیسیاں چھوڑ کر عوام کے حقوق کے لیے بااختیار بلدیاتی نظام فراہم کریں۔ اس اقدام کا مقصد مقامی سطح پر عوام کی نمائندگی اور انتظامی اختیار میں اضافہ ہے۔آخر میں، انہوں نے پیر عبدالرحیم نقشبندی اور پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا، اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔