بھارت کی نئی چال: افغان شہریوں کے لیے ویزا سسٹم میں تبدیلی

بھارت کی نئی چال: افغان شہریوں کے لیے ویزا سسٹم میں تبدیلی

افغانستان، بھارت اور پاکستان کے مابین بدلتے ہوئے علاقائی سیاسی و سفارتی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔ تفصیل کچھ یوں ہے:

پس منظر:
بھارت نے 2021 میں ای-ایمرجنسی ویزا سسٹم اس وقت متعارف کرایا تھا جب طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالا۔ اس وقت ہزاروں افغان شہری اپنی جانیں بچانے اور بیرون ملک نقل مکانی کے لیے کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ بھارت نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یہ ویزا سسٹم شروع کیا تھا تاکہ افغان شہری فوری طور پر بھارت آ سکیں، خصوصاً وہ لوگ جنہیں طالبان حکومت میں خطرہ لاحق تھا۔

نیا ویزا سسٹم:
اب بھارت نے اس ایمرجنسی ویزا سسٹم کو ختم کرکے ایک باقاعدہ اور مستقل ویزا نظام متعارف کرایا ہے، جس میں افغان شہری چھ اقسام کے ویزوں کے لیے درخواست دے سکتے ہیں:

طبی علاج (Medical Treatment Visa)
تعلیم (Student Visa)
کاروبار (Business Visa)
اقوام متحدہ کے سفارتی مشن (UN Mission Visa)
انٹری ویزا (Entry Visa)
میڈیکل اٹینڈنٹ ویزا (Medical Attendant Visa)
بھارتی موقف:
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ نیا ماڈیول افغان شہریوں کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرے گا اور سفری معاملات کو زیادہ منظم بنائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قدم بھارت کی افغان عوام کے ساتھ مسلسل ہمدردی اور تعاون کی علامت ہے۔

تجزیہ و تبصرے:
کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت اس فیصلے کے ذریعے افغانستان میں اپنے کھوئے ہوئے اثر و رسوخ کو دوبارہ بحال کرنا چاہتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان اور افغانستان انسداد دہشتگردی پر مشترکہ حکمت عملی اپنا رہے ہیں اور دو طرفہ روابط میں بہتری کی کوششیں جاری ہیں۔
بھارت اس ویزا پالیسی کو ایک 'سافٹ پاور' ٹول کے طور پر استعمال کر سکتا ہے تاکہ وہ افغانستان میں معاشی اور تعلیمی بنیاد پر اپنی موجودگی برقرار رکھ سکے۔
افغان ردعمل:
افغانستان کی وزارتِ اقتصادیات نے اس فیصلے کو مثبت اور خوش آئند قرار دیا ہے۔ معاون وزیر عبداللطیف نظری نے کہا:"یہ اقدام خاص طور پر افغان تاجروں کے لیے مفید ہو گا اور بھارت کے ساتھ تجارتی روابط کو فروغ دے گا۔"انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک تعمیری سفارتی پیش رفت ہے جو کابل اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

 نتیجہ:
یہ نیا ویزا نظام بھارت کی افغانستان کے ساتھ تعلقات کی ازسرِ نو ترتیب دینے کی کوششوں کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ ساتھ ہی یہ پاکستان کے لیے بھی ایک سفارتی پیغام ہو سکتا ہے کہ بھارت خطے میں اپنے اثرات برقرار رکھنے کے لیے متحرک ہے۔